آروشی تلوار کے والدین بیٹی کے قتل کے الزام سے بری

آروشی تلوار کے والدین بیٹی کے قتل کے الزام سے بری

October 12, 2017 - 16:35
Posted in:

الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر راجیش تلوار اور نوپور تلوار کو یہ کہہ کر بری کر دیا ہے کہ تفتیش کار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا قتل کیا تھا۔عدالت نے کہا کہ سی بی آئی نے واقعاتی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کی تھی لیکن جو ثبوت پیش کیے ان سے وہ آروشی کے قتل میں ان کے والدین کے ملوث ہونے کو ثابت نہیں کر سکے۔ عدالت نے کہا کہ 'محض شبہے کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں قرار دیا جا سکتا‘۔ راجیش اور نوپور فیصلے کے وقت جیل میں تھے۔ جیل کے پولیس سپرانٹینڈینٹ کے مطابق فیصلے پر انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے 'آج ہمیں انصاف مل گیا‘۔ بیوی زندہ مگر شوہر قتل کے الزام میں جیل میںانڈیا میں 'بےباک' اور نڈر خاتون صحافی قتلانڈیا میں لڑکی کی ’قربانی‘ پر تین افراد گرفتاردلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق 14 سالہ آروشی اور گھریلو خادم ہیمراج کے دہرے قتل کے جرم میں ذیلی عدالت نے 2013 میں آروشی کے والدین کو مجرم قرار دیا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ والدین نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

16 مئی 2008 کو دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے ایک مکان میں آروشی کی لاش ان کے کمرے میں ملی تھی۔ تفتیش شروع ہوئی اور اگلے دن ان کے گھریلو خادم ہیمراج کی لاش مکان کی چھت پر ملی تھی۔ابتدا میں اتر پردیش میں پولیس نے اس سنسی خیز دہرے قتل کے معاملے کو حل کرنے کا دعویٰ کیا اور ڈاکٹر راجیش تلوار کے نوکروں کو مشتبہ ٹھہرایا، لیکن بعد میں پولیس نے اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دے کر کہا کہ آروشی کے والد نے ملازم ہمیراج کو آروشی کے ساتھ اس کے کمرے میں ’قابل اعتراض حالت میں پایا‘ اور طیش میں انھوں نے اپنی بیٹی اور ہمیراج دونوں کو قتل کر دیا۔ تفتیش میں زبردست پیچیدگیوں اور مشکلات کے بعد اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ سی بی آئی کی تفتیش کی بنیاد پر ذیلی عدالت نے نومبر 2013 میں آروشی کے والدین کو دہرے قتل کا قصوروار قرار دیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ ڈاکٹر راجیش تلوار اور نوپور تلوار تمام الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ڈاکٹر راجیش اور نوپور تلوار کا تعلق نوئڈا کے متوسط طبقے سے ہے۔ آروشی کے قتل کے واقعے سے پورے ملک میں سنسنی پیدا ہو گئی تھی اور اس پر سینکڑوں مضامین اور ایک کتاب بھی لکھی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس واقعے پر ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔ عدالت کے جمعرات کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال سامنے آ گیا ہے کہ آخر یہ قتل کس نے کیے تھے؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}