راجن پور…راجن پور میں آنے والے نئے سیلابی ریلوں سے مزید تیس سے زائد بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔دوسری طرف بلوچستان میں سیلابی پانی ربیع کینال میں داخل ہوگیا ہے اور کئی علاقوں میں متاثرین اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔راجن پور میں دوروز قبل آنیوالے سیلابی ریلوں سے چک شہید سمیت قریبی آبادیوں میں لوگ اب بھی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ غذائی اجناس اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ضلع راجن پور کے نوے فیصد حصے کارابطہ آج دسویں روز بھی دیگر علاقوں سے منقطع ہے۔ادھر تونسہ میں دوافراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے اورپانچ بستیاں مکمل زیر آب آگئیں ۔ دوسری جانب بلوچستان میں سیلابی ریلاربیع کینال میں داخل ہوگیاہے۔محکمہ آب پاشی کے مطابق سیلابی پانی کازورتوڑنے کے لئے پانی کو مختلف اضلاع میں تقسیم کردیاگیاہے،جس سے بولان کے علاقے شوران میں کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔دریائے ناڑی میں درمیانی درجے کا سیلاب ہے۔بارکھان میں اب بھی امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامناہے۔ سیلاب سے متاثرہ ریلوے ٹریک بختیار آباد کے مقام پر مرمت کر کے دس روز بعد بحال کردیاگیا، جس کے بعد آج بولان اورجعفرایکسپریس کو متاثرہ ٹریک سے گزاراگیا۔