پشاور…بارشوں اورسیلاب نے خیبرپختونخوا،پنجاب اورآزادکشمیرمیں تباہی مچادی ہے اورہلاک شدگان کی تعداد230ہوگئی ہے ۔دریاوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے ہزاروں افرادامدادکے منتظرہیں۔ہزاروں افراد نے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔گلگت میں سیلابی ریلے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس زیر آب آگیا جبکہ نوشہرہ میں دریائے کابل میں طغیانی سے ہزاروں لوگ پھنس گئے۔گلگت بلتستان میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے تمام علاقوں کا ملک سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیاہے۔گلگت میں سیلابی ریلے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھی زیر آب آگیاہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مقامی ہوٹل منتقل ہوگئے۔بسین میں گزشتہ رات سے رینجرز کے 14اہلکار سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کے لیے ریسکیوآپریشن جاری ہے۔خیبرپختون خوا میں صورت حال اور بھی سنگین ہوگئی ہے۔دریائے سوات کا پانی نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں داخل ہوگیا جس کے باعث نوشہرہ کلاں اور نوشہرہ چھاؤنی کا علاقہ زیرآب آگیا۔ہزاروں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اورامدادکے منتظر ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ اسپتال بھی زیرآگیا۔اسپتال کے عملے اور مریضوں نے اسپتال کی چھت پر پناہ لے رکھی ہے۔ڈی پی او نوشہرہ نثارتنولی کے مطابق متاثرین کی امداد کے لیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔کوہاٹ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ چار زخمی ہوگئے۔گزشتہ دودنوں میں کوہاٹ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد29ہوگئی۔خیبر پختون خوا میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے مجموعی طورپر دوسوسے زائد افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں۔بٹ گرام کے علاقے ککڑشنگ میں پل پانی میں بہہ جانے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیاجبکہ دوگھر بھی گر گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا،جبکہ منری میں ایک مسجدشہید ہوگئی۔ادھرٹانک میں سیلاب متاثرین نے علاقہ پٹھان کوٹ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔