واشنگٹن…سینٹرل مانیٹرنگ…امریکی ریاست کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے وہ جین دریافت کرلیا ہے جو رعشے کے مرض کو جنم دیتا ہے۔رعشے کا مرض جس میں عمر رسیدہ افراد ناصرف اپنا جسمانی توازن کھو دیتے ہیں بلکہ انکے اعضاء میں لرزہ پیدا ہوجاتا ہے ایسے ذرات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جواعصابی خلیوں کو مردہ کردیتے ہیں۔اس جین میں پیدا ہونے والا تغیّر MicroRNA نامی ذرات میں بگاڑ پیدا کردیتا ہے جو بعدازاں جسم میںDopamineنامی پروٹین پیدا کرنے والے اعصابی خلیوں کو مُردہ کردیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس نئی دریافت سے طب کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا گیا ہے جس کے ذریعے اب رعشے جیسے مرض کے لیے ایسی ادویات تیار کی جاسکیں گی جو ان ذرات سے پیدا ہونے والے منفی اثرات کا توڑ کرسکیں گی۔واضح رہے کہ تاحال رعشے جیسے مرض کے لیے استعمال میں لائی جانے والی ادویات عارضی طور پر اس مرض کی علامات کو کم کرتی ہیں جن کے بیحدمضر اثرات ہوتے ہیں اور یہ اعصابی خلیوں کو مُردہ ہونے سے بھی نہیں روک پاتیں۔