واشنگٹن (ایجنسیاں ) امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں تاہم اسے مزید کچھ کرنا ہوگا۔ گذشتہ روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گذشتہ سال دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے دہشت گردوں کیخلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستانی عوام نے جتنا نقصان اٹھایا۔ دنیا کے کسی اور ملک نہیں اٹھایا تاہم دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی نہ کی گئی تو دنیا کے دیگر لوگ دہشت گردی کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ پاک، افغان سرحد پردہشت گردوں کے محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔ کیونکہ ان پناہ گاہوں سے دہشت گرد امریکہ اور یورپی خطے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جو اب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان سے دہشت گردوں کی برآمدگی نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ترجمان نے کہاکہ القاعدہ اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو خطرہ ہے اور یہ تنظیمیں ان سرحدوں کے راستوں سے یورپ اور امریکہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے امریکہ سمجھتا ہے کہ ان تنظیموں کے خاتمے کے لئے پاکستان کو جدوجہد کرنی چاہئے اور ان کے خلاف ٹھوس کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ یہ ہماری سٹرٹیجک مذاکرات کا اہم حصہ ہے اور سٹرٹیجک مذاکرات میں ان کے خلاف کارروائی پر دونوں ممالک نے اطمینان کا اظہار کیا تھا ۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ بات واضح کہہ چکا ہے کہ وہ ایک مستحکم پاکستان کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان قائم رہے اور حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنا مشن جاری رکھیں گے ۔ترجمان کا کہنا تھا کہ مشرف اور موجودہ دور میں کافی فرق ہے ۔ اس حکومت نے آرمی کے سربراہ اشفاق کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کر دی ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوامی حمایت حاصل ہے اور ہم اس حکومت کا تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کیلئے پوری طرح تیار ہیں، تہران گرفتار امریکی شہریوں کو رہا کردے۔