کراچی (جنگ نیوز) ملک میں بہت زیادہ مہنگائی ہوگئی ہے، زندگی گزارنا مشکل ہوتا جارہا ہے، بہت مشکل سے گزر اوقات ہوتی ہے ، ان خیالات کا اظہار پاکستان کے مختلف شہروں سے سیر و تفریح کیلئے مری آئے ہوئے لوگوں نے جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں پروگرام کے میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مری کے مال روڈ پر مہنگائی کا رونا روتے نظر آنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہاں ہوٹل کا یومیہ کرایہ 15-20 سو روپے ہوگیاہے اس کے علاوہ پانی کی قلت بھی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، شہریوں کا کہنا تھا کہ بم دھماکے اوردہشت گردی بھی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں۔ ایک شخص کا کہنا تھا ملک میں ہر بندہ دوسرے کو لوٹنے میں لگا ہے۔ بہاولپور اور لاہور سے آئے شہریوں کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہے، پہلے لوگ مری میں مہینوں گزارنے آتے تھے مگر اب چند دنوں کیلئے آتے ہیں، ایک شہری کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے میرے 50 ہزار دو دِن میں ختم ہو گئے۔ کراچی سے آنے والے محمد عامر کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے ساتھ آمدنی کے ذرائع بڑھ جائیں تو مہنگائی کا اثر نہیں پڑتا، اس کے علاوہ اخراجات کو کنٹرول کرنا خود شہری کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ کراچی سے آنے والی ایک خاتون مسز شاہد کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے علاوہ لوڈ شیڈنگ بھی ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے، مہنگائی کے باعث خواتین کم شاپنگ کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں اور کراچی کی نسبت مری میں بہت زیادہ مہنگائی ہے۔کوئٹہ کے ایک شہری امان اللہ بگٹی نے شکایتی انداز میں کہا کہ بلوچستان سے گیس نکلتی ہے مگر افسوس کہ ہمارے شہریوں کو یہ گیس میسر نہیں جبکہ مری میں چاروں جانب گیس ہی گیس ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک کا بنیادی مسئلہ تعلیم کی کمی ہے ۔پشاور سے آنے والے ایک شہری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال زیادہ بہتر نہیں ہے ۔ اوکاڑہ کے ایک شہری کا کہنا تھا کہ اوکاڑہ میں گرمی اور مری میں پانی کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہر چھوٹی اور بڑی چیز مہنگی ہے ۔ ملتان کی خاتون کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں مہنگائی ہم نے خود پیدا کی ہے اور ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ مری کے ایک کاروباری شخص شیخ عامر کا کہنا تھا کہ مری میں لوکل انڈسٹری نہیں ہے، یہاں کے تاجر صرف اُسی ماہ کماتے ہیں جب یہاں لوگ سیر و تفریح کیلئے آتے ہیں ورنہ سال بھر کام نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایجنٹوں کے ذریعے ہوٹل جانے والوں کو کمرہ حاصل کرنے کیلئے زیادہ کمیشن دینا پڑتا ہے۔ حیدرآباد کے ایک شہری کا کہنا تھا کہ مری میں ہوٹلوں کا کرایہ بہت زیادہ ہے اور ہم اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آئے ہیں اور 15 سے 20 سوروپے یومیہ مجبوراً دینا پڑرہا ہے۔اُنہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اگر دریائے سندھ کے قریب ایک پارک بنادیا جائے تو عوام کو بہترین تفریح میسر ہوگی۔ مری کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ یہاں کے خوبصورت درخت کاٹ دیئے گئے ہیں جس میں انتظامیہ کی ملی بھگت شامل ہے اور یہاں سے لکڑیاں کاٹ کر وزراء اپنے گھروں پر لے جاتے ہیں ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے پانی کیلئے منصوبہ بنایا تھا جو موجودہ صوبائی حکومت نے ختم کردیا۔ ایک شخص کا کہنا تھا ملک میں ہر بندہ دوسرے کو لوٹنے میں لگا ہے۔ ایک شہری محمد قاصد کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے مجھے میری سروس سے تنخواہ نہیں ملی، ایک اسٹیشن کمانڈر نے مجھے ایک ریڑھی لیکر دی ہے جس سے روزگار حاصل کررہا ہوں۔ ڈی جی خان سے آنے والی خاتون کو شکایت تھی کہ حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں، پاکستان بہت پیچھے جارہا ہے۔