| کراچی( اسٹاف رپورٹر) حکومت نے ایک طرف منافع میں چلنے والی ٹرینوں کو بند کر دیا تو دوسری جانب کراچی سے ملتان جانے والی شاہ رکن عالم میں چھ روز قبل صرف 1480 روپے کی آمدنی ہوئی تھی لیکن یہ تاحال چل رہی ہے ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے مردان جانے والی تیزرو جسے اب بند کر دیا گیا ہے شروع میں اس کے 8 بوگیاں ہوتی تھیں لیکن کچھ عرصے سے یہ چار، پانچ اور چھ بوگیوں پر چلائی جاتی تھی۔ ان بوگیوں میں بھی ایک روہڑی حیدر آباد کے لئے اور ایک بوگی پرائیویٹ ایجنسی کے ذریعے بک ہوتی تھی اوسطاً ڈھائی بوگیوں سے ریلوے کو روزانہ 2 سے سوا دو لاکھ کی آمدنی ہوتی تھی لیکن اسے بند کر دیا گیا۔ کراچی سے میر پور خاص جانے والی مہران ایکسپریس بھی بند کی جا چکی ہے جبکہ اس سے پہلے شاہ لطیف ایکسپریس بند کی گئی تھی۔ٹرینوں سے سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے ریلوے کی تباہی کی اصل ذمہ دار خود ریلوے بیورو کریسی ہے۔ کیونکہ جب ٹرینیں 12 اور 14 گھنٹے لیٹ ہوں۔ 12 گھنٹے کا سفر 24 گھنٹے میں ہو جائے تو لوگ کیسے سفر کریں گے۔ ٹرینوں کے انتظار میں اکثر لوگوں کا سفر کیلئے ساتھ لایا گیا کھانا پلیٹ فارم پر گاڑی روانہ ہونے کے انتظار میں ہی ختم ہو جاتا تھا۔ حالیہ بارشوں کے دوران بھی یہ بات مشاہدے میں آئی کہ پلیٹ فارم پر اکثر شیڈ ٹپک رہے تھے۔ مسافروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ریلوے کے سابق وزیر شیخ رشید انہی وسائل کے اندر رہ کر متعدد ٹرینیں متعارف کرائیں۔ سفر کے معیار کو بہتر کیا، ایئرکنڈیشنز ڈائننگ کار متعارف کرائیں، اب یہ اچانک کیسے ہو گیا کہ تمام ٹرینیں خسارے میں چلی گئیں۔ |
|