| کراچی(اسٹاف رپورٹر) ٹرینوں کے راستے میں کھڑے ہونے کی اکثر وجہ بعض کوچز کا وزن زیادہ ہونا اور پرانے انجنوں کی ناقص اوورہالنگ بتائی جاتی ہے۔ ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے کے پاس امریکی اور جرمن کوچز کا فی کوچ 40سے 42 ٹن وزن ہے لیکن چائنا سے درآمد کی گئی کوچز کا وزن 6ء62 ٹن فی کوچ ہوتا ہے اس طرح ایک انجن جو پہلے 19اور 20 ڈبوں پر مشتمل ٹرین لیکر آسانی سے چلا جاتا تھا اب بمشکل 14اور 15 ڈبے لے جاتا ہے۔ ریلوے کا ایک مسافر ٹرین کا اوسطاً ڈیزائن لوڈ 820سے 825 ٹن ہے ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ قبل لاہور اور کراچی ری بلڈ کئے جانے والے جی ایم یو 30- انجن جن کی تعداد 35 بتائی جاتی ہے ان امریکی انجنوں کے ایک طرف 6 ویل ہوتے ہیں ہر ویل کے ساتھ ایک الیکٹرک موٹر (ٹریکشن موٹر) ہوتی ہے جو 500ہارس پاور کی ہوتی ہے اور دوسری طرف کے ویل کے ساتھ منسلک ہوتی ہے تاہم مذکورہ انجنوں کی اوورہالنگ کے بعد معائنے کے موقع پر تو ویل کے ساتھ موٹر دکھائی گئی لیکن بعدازاں اکثر انجنوں سے تین تین موٹریں اتارلی گئیں اس طرح ان انجنوں کی طاقت کم ہوگئی ۔ |
|