| کراچی (ٹی وی رپورٹ)پی آئی اے کے سابق پائلٹ کیپٹن(ر) محمود ذکی نے کہا ہے کہ بدھ کو مارگلہ ہل پر حادثہ کا شکار ہونے والے ایئر بلو کے طیارے ایئربس اے321 جس مقام اور فضا میں جس بلندی پر تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز کا کپتان ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ میں تھا اور اس کی وہاں بات چیت ہورہی تھی۔جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ “کے میزبان کامران خان سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے طیارے کی لینڈنگ یا ٹیک آف کرنے کے دوران موسم کو سب سے زیادہ اہم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا جب تک رن وے نظر نہیں آتا اس وقت تک پائلٹ اگلا قدم نہیں اٹھا سکتا اور اگر رن وے نظر نہ آئے تو پھر دوسرے راؤنڈ میں لینڈنگ کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ رن وے کو ہر لمحہ نظروں میں رکھنا پڑتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے رن وے نظروں سے اوجھل ہوجائے تو جہاز کے کپتان کو اسی وقت کنٹرول ٹاور سے رجوع کرنا چاہئے۔کنٹرول ٹاور کی بھی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ رن وے کو ہر وقت اپنی نظروں میں رکھے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے کے وقت ایئر بس اے321-جس مقام پر تھا اس کا لازماً ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ ہوگا اور کپتان سے گفتگو ہورہی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجائیں اس وقت تک ہم کسی کو موردالزام نہیں ٹہراسکتے کیونکہ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں پائلٹ پر ایسی صورتحال میں متعلقہ ایئر لائنز کا شدید دباؤ ہوتا ہے کیونکہ لینڈنگ نہ کرنے کی صورت میں اسے بہت سارے سوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔ایس ای سی پی میں انشورنس ڈویژن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نسرین راشد نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت کسی جہاز کو اس وقت تک فضا میں نہیں اڑایا جاسکتا جب تک اس جہاز میں سوار مسافروں کی انشورنس نہ کروالی گئی ہو یہی وجہ ہے کہ بدھ کو حادثہ کا شکار ہونے والے ایئر بلو کے طیارے ایئر بس اے321 میں سوار تمام مسافر انشورڈ تھے اور اس کے تمام ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ |
|