کراچی (اسٹاف رپورٹر) تمام دواؤں کے بجائے صرف جان بچانے والی دواؤں پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہئے۔ اگر دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معیاری ادویات مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گی اور دوا ساز اداروں کو شدید نقصان پہنچے گا جس سے ملک کی معیشت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار ایک بین الاقوامی دواساز ادارے کے چیف ایگزیکٹو اقبال بنگالی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ جعلی دواؤں کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2001ء کے بعد سے اب تک دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جو دوا ساز اداروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے بھارت میں دواؤں کی قیمتوں میں کمی یا معیار میں بہتری کو محض مفروضہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی بات کی جاتی ہے تو عوام کی معاشی حیثیت کو مثال بنا کر قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی افسوسناک ہے کہ ہمارے ملک میں ڈاکٹروں کی فیسوں، اسپتالوں اور لیبارٹریوں کے اخراجات پر کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی، صرف دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بھارت میں دواؤں کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔ اگر دونوں ملکوں کی 30 سرفہرست دواؤں کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے یہاں تیار کی جانے والی دواؤں کی قیمتیں 31 فیصد کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دواؤں کے حوالے سے تحقیقی کام نہ ہونا ملک کے لئے اقتصادی نقصان کا باعث ہے۔ دنیا بھر میں دواؤں کی تحقیق کے حوالے سے مختص فنڈ کی مجموعی مالیت 75 بلین ڈالر ہے جس سے 10 ملین بھارت لے جاتا ہے جبکہ پاکستان اس میں سے ایک ڈالر بھی حاصل نہیں کرپاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک سے ایک قابل ڈاکٹر، محقق اور آلات اور مشینری موجود ہیں، صرف وزارت صحت اور پالیسی سازوں کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔