کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے 7شعبوں کے چیئرمینز اوراساتذہ اورانجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے دباؤ پر پروفیسر اورایسوسی ایٹ کے عہدے کی مشتہر شدہ اسامیوں پر تقرری کا فیصلہ واپس لے لیا ہے جس سے متعلقہ شعبوں میں باہر سے آنے والے لائق اساتذہ کے تقررکے دروازے بند ہوگئے ہیں یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ جامعہ کراچی کے ان 7 شعبوں میں موجود اساتذہ پروفیسرز کی اسامی کے اہل نہیں تھے اور مطلوبہ قابلیت پوری نہیں کرپارہے تھے جن شعبوں میں مشتہرپروفیسرز کی اسامیوں کومنسوخ کردیا گیا ہے ان میں شعبہ ابلاغ عامہ، فارماسیوٹکس،بین الاقوامی تعلقات ، فلسفہ،تاریخ عمومی،اطلاقی طبعیات اور فارسی شامل ہیں جامعہ کراچی کی پرووائس چانسلر ڈاکٹرشاہانہ عروج کاظمی نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ انتظامیہ پروفیسراورایسوسی ایٹ پروفیسرکی اسامیوں پر دی گئی درخواستوں کے مطابق بھرتی کاعمل چاہتی تھی تاہم ان شعبوں کے سربراہوں ، اساتذہ اورانجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے عہدیداروں نے ہم پر دباؤ ڈالا کہ ان 7شعبوں میں پروفیسرزاور ایسوسی ایٹ پروفیسرزکی اسامیوں پربھرتیاں ابھی نہ کی جائیں اوراس کاعمل موخر کردیا جائے کیونکہ جامعہ کراچی کے متعلقہ شعبوں کے اساتذہ فی الحال ان اسامیوں پر درخواست دینے کی مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتے اورپروفیسراورایسوسی ایٹ پروفیسرز کے عہدے کیلئے ان کے شائع شدہ پرچوں کی تعداد مقررہ حد سے کم ہے اگر ان اسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں تو باہر کے لوگ آجائیں گے اورہماری ترقی کے دروازے بند ہوجائیں گے لہذا باہر کے لوگوں کی جامعہ کراچی آمد کوروکا جائے چنانچہ ہم نے ان شعبوں میں پروفیسراورایسوسی ایٹ پروفیسرکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل روک دیا ہے دریں اثناء انجمن اساتذہ کے صدر پروفیسرڈاکٹرعابد حسنین اور جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فیاض ویدنے اس معاملے پر اخبار نویسوں کو بتایا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ مروجہ قوائد کے مطابق متعلقہ اسامیوں پر درخواست دینے کی تیاری کررہے تھے پروفیسر اورایسوسی ایٹ پروفیسرکی اسامی کیلئے درخواست دینے کے لیے ان اساتذہ کے شائع شدہ پرچوں کی تعداد بالترتیب 12اور8تھی کہ اچانک ایچ ای سی کی جانب سے ان قوائد میں تبدیلی کرتے ہوئے پرچوں کی تعداد بالترتیب 15اور12مقررکردی گئیجس سے کئی سال سے یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ نقصان سے دوچار ہورہے تھے لہذا صرف اس سال کیلئے ان مشتہر اسامیوں پر تقرری کے عمل کو موخر کروایا گیا ہے انجمن اساتذہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ انجمن باہر سے درخواست دینے والے اساتذہ کی تقرری کے ہرگز خلاف نہیں ہے۔