| حیدرآباد (بیورو رپورٹ) سیشن جج حیدرآباد عبدالرسول میمن کی عدالت میں ہٹڑی کے رہائشی غلام مصطفی ڈاہری کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کا بیٹا زبیر احمد ڈاہری تین روز سے پراسرار طور پر لاپتہ تھا جسے وہ اور اس کے اہل خانہ تلاش کررہے تھے‘ بعد ازاں پتہ چلا کہ ہٹڑی پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے‘ تھانہ پر رابطہ کیا گیا تو پولیس افسران نے زبیر کی رہائی کے لیے رشوت طلب کی‘ نہ دینے کی صورت میں میرے بیٹے کو قتل کے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرنے کی دھمکی دی۔ سیشن جج حیدرآباد نے غلام مصطفی ڈاہری کی درخواست پر فرسٹ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کو ریڈ کمشنر مقرر کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر گرفتار نوجوان زبیر احمد کو تھانے پر چھاپہ مارکر بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات پر ریڈ کمشنر نے ہٹڑی تھانے پر چھاپہ مارا تو لاک اپ میں زبیر ڈاہری موجود تھا‘ اس موقع پر ایس ایچ او ہٹڑی خالد میمن کا کہنا تھا کہ انہوں نے زبیر کو وزیر عرف وجو مشوری کے قتل کیس میں شک کی بنیاد پر تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا تاہم گرفتار نوجوان کے خلاف تھانے میں نہ تو کوئی ایف آئی آر درج تھی اور نہ ہی اسے حراست میں لیے جانے کا کوئی اندراج تھا جس پر ریڈ کمشنر نے زبیر احمد ڈاہری کو ذاتی مچلکہ پر آزاد کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایس ایچ او ہٹڑی خالد میمن کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعہ کو سیشن جج حیدرآباد کی عدالت میں پیش ہوکر نوجوان کی غیر قانونی گرفتاری کی وضاحت پیش کرے۔ |
|