Urdunews.net
وطن کی مٹی پکارے گی....نوشتہ دیوار…نفیس صدیقی
   
 
    
  Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Thursday, September 09, 2010, Ramzan 29, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share وطن کی مٹی پکارے گی....نوشتہ دیوار…نفیس صدیقی
میں کوئی دو ہفتے برطانیہ اور یورپ میں رہ کر آیا ہوں۔ کچھ نجی نوعیت کا دورہ تھااور کچھ ایک تھنک ٹینک کی دعوت تھی۔ یہاں مجھے بے شمار سیاسی اور پاکستانی افرادسے ملنے کا موقع ملا۔ ایسے اداروں میں بھی جانا ہوا جہاں سیاسی اور عالمی امور پر غور وفکر ہوتا ہے۔ خاص کر پیپلز پارٹی کے کارکن جگہ جگہ ہیں جو پورے یورپ میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کی ہمدردیاں مشکل ترین وقت میں پارٹی کے ساتھ رہی ہیں۔وہ پارٹی سے میری وابستگی سے بخوبی واقف تھے‘ وہ ایک سوال کرتے تھے‘ ملک کا کیا بنے گا‘ پارٹی کیا کر رہی ہے‘ مجھ سے پوچھ رہے تھے بلکہ ایک طرح سے محاسبہ کر رہے تھے کہ میں کیوں خاموش ہوں یا لاتعلق سے ہو کر بیٹھا ہوں۔ پاکستان میں بھی کئی طرح کے سوالات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ یورپ میں الگ سے بھی حبیب جاں‘ میاں شاہد اور خاص طور برطانیہ میں مشہور قانون دان پر بیرسٹر صبغت اللہ قادری جو ملکہ کے کونسل بھی ہیں اور اپنے زمانے کے بڑے طالب علم اور سیاسی رہنما رہے ہیں اور دوسرے لوگوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ مجھے ایک ایک چہرہ یاد آرہا ہے یہ جو گذشتہ چار دہائیوں سے پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے ایک مقصد کیلئے جمع ہیں خاص کر وہ لوگ تو بہت نمایاں ہیں جنہوں نے دو عشروں سے شہیدبے نظیر بھٹو کی قیادت میں کام کیا ہے۔
مگر اب وہ لوگ کہا ں ہیں۔ منزل انہیں ملی ہے جوشریک سفر نہ تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں یہ سطور بڑے درد دل سے لکھ رہا ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کا غلط مفہوم لیا جا سکتا ہے اور اس کو غلط معنی پہنائے جا سکتے ہیں۔ مگر شاید اب یہ تاخیر مناسب نہ ہوگی ۔ اس پارٹی کا قیام ہی ملکی سیاست میں ایک نظریاتی انقلاب تھا۔ پسے ہوئے لوگوں کا مقدر بدلنے کا عزم لے کر اس کی قیادت نے کارکنوں کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے ہر قسم کی سختی جھیلی مگر اپنے مقصد سے انحراف نہ کیا۔ یہ آئیڈیل لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ مجھے بھی یہ آئیڈیل پارٹی میں کھینچ کر لائے۔
لیفٹ کی جماعتیں تو کئی تھیں‘ مگر ایسی پروگریسو اور لبرل جماعت جو عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ سکے ‘ دوسری کوئی نہ تھی۔ میں آج بھی اپنی اس پارٹی کیلئے دل وجان سے کام کرنا چاہتا ہوں اور اس پر کف افسوس ملتا رہا ہوں کہ ہم وہ کچھ نہیں کر پارہے جس کیلئے یہ پارٹی بنائی گئی تھی۔ کون کون سا الزام ہے جو پارٹی پر نہ لگ رہا ہو۔ شہید محترمہ کی تصویر لٹکا کر جو سیاست کی جارہی ہے اس کا محترمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر کسی منظم پارٹی کی موجودگی میں انارکی ہو‘ تو سمجھ لینا چاہیے کہ ضرور کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہے ۔ اور یہ خرابی دور کرنا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اگر قیادت کے گرد ایسے لوگ جمع ہو جائیں جو پارٹی کے مقاصد سے ناواقف ہوں‘ تو یقینی طور پرمعاملات گھمبیر ہو جائیں گے۔ عوام مہنگائی سے بلک رہے ہیں‘ خودکشیاں ہو رہی ہیں ۔بجلی ہے نہ پانی ‘ جہالت پھیلتی ہی جارہی ہے حکومتی رٹ نظر نہیں آ تی‘ کرپشن کے کم ہونے کے کوئی امکانات نہیں۔ جعلی ڈگریوں کا مسئلہ اور خراب حکمرانی صاف نظر آرہی ہے۔ معیشیت نے ملک کو شکنجے میں کس رکھا ہے جس کے نتیجے میں IMFاور ورلڈ بینک ہم پر قبضہ کئے بیٹھی ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کیا ہم آزاد ہیں کیا ہم آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ترقی کا سفر الٹے پاؤں کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اگر ایسی پارٹی کی قیادت میں ہو جو انقلابی سوچ رکھنے والی ایک منظم پارٹی ہو تو معاملے پر غور کر نے کی ضرورت ہی‘ یہ پارٹی کسی کی جاگیر نہیں‘ لاکھوں کارکن اس کی وراثت کے امین ہیں جو بے چین ہیں۔ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں بھی کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر راستے بند ہیں۔
یہ ہو نہیں سکتا کہ راستہ مل نہ پائے۔ ان سب کارکنوں کو سوچنا ہوگا کہ کیا کیا جائے۔ ظاہر ہے ‘ بہترین شکل یہ ہے کہ پارٹی کے اندر ہی راستہ تلاش کیا جائے۔ اگر راستہ نہ ملے تو آگے سوچنا سوہان روح ہے ۔ پارٹی مجھے اور مجھ جیسے کارکنوں کے لئے جان سے عزیز ہے کہ ہمارے لئے پاکستان کے مقاصد کے حصول کا بہترین راستہ ہے۔ ہمیں راستہ چاہیے۔ رکاوٹوں کو ہٹنا چاہیے۔ ہم اس وقت دعا ہی کر سکتے ہیں کہ خدا را راستہ سب کے لئے کھلے۔ مگر یہ ایک طوفان آتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملک بہت خطرات میں ہے۔ ان خطرات کو صرف سیاسی کارکن ہی ٹال سکتے ہیں جن کی اس ملک سے کمٹمنٹ ہے۔ یہ کارکن پریشان پھر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کچھ کر گزریں ۔
پارٹی کا حکومت کے فیصلہ سازی پر کوئی اثر نہیں ہے بلکہ حکومت پارٹی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے پارٹی بے عملی کا شکار ہو رہی ہے۔ جہانگیر بدر‘ رضاربانی‘ تاج حیدر‘ قاسم ضیا‘ رانا آفتاب ‘ افضل سندھو‘ اعتزاز احسن‘ سردار وزیر جوگیزئی ‘جمال جوگزئی‘ جاوید احمد‘ آفتاب شعبان میرانی‘ مخدوم امین فہیم‘ نواب یوسف تالپور‘ پیر آفتاب شاہ جیلانی‘ این ڈی خان‘ راشدربانی ‘ نثار کھوڑو۔ یہ سب لوگ کہاں ہیں اور اگر ان میں سے کچھ نے حالات سے مصالحت کر لی ہے تو انکی حیثیت ثانوی ہو گئی ہے۔ اور وہ پوزیشن انہوں نے قبول کر لی ہے ۔ یہ پارٹی کی شکست کے مترادف ہے۔
میں نظریات اور اصول کی سیاست کرتا ہوں اور اس لئے پاکستان پیپلز پارٹی میں تھا اور ابھی تک ہوں۔ اگر مجھے یہ احساس ہوا کہ پارٹی اپنے اصولوں سے جو میرے نظریات بھی ہیں دور ہو رہی ہے تو ضرور سوچوں گا کہ لائحہ عمل کیا ہو۔
میں یہ بات واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ میں پارٹی میں ہوں اور رہنا بھی چاہتا ہوں مگر قیادت اور حکومت کے گرد جو لوگ ہیں وہ تمام پرانے لوگوں کو قریب نہیں آنے دیتے ۔ میں ایک سیاسی کارکن ہوں عرصے سے انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی مجھ سے پوچھے گا۔ مجھ سے پوچھے بغیر یہ طے کر لیا گیا ہے کہ میں چھوڑچکا ہوں میں نے ضرور جنرل سیکریٹری سندھ کے عہد ہ سے استعفیٰ دیا تھا۔ رکن مرکزی کمیٹی سے اور نہ ہی پارٹی سے الگ ہونے کا کوئی اعلان کیا تھا ۔ میں اب بھی پارٹی کا دم بھرتا ہوں مگر کب تک۔ وطن کی مٹی پکارے گی تو چپ رہنا مشکل ہو گا۔ لاکھوں کارکنوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں سینکڑوں شہید ہوئے اور درجنوں کارکن ”جئے بھٹو“ کہہ کر پھانسی چڑھ گئے۔ ہم سے یہ تو بن نہ سکا مگر وطن کی خاطر کچھ تو کرنا ہوگا۔
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی



 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Urdunews Online    |    Urduseek.com    |    Jang    |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback
 
0