152”عام مسافر“ شہید ہوگئے…اِن میں سے کوئی ایک بھی اتنا خاص نہیں تھا کہ جس کے ماتم کدے سے اُس کی ماں، بیٹی، بہن ، بیوہ یا باپ کو سرکاری اخراجات پر اُن کے پیارے کی سوختہ نعش کے پاس لے جایا جاتاتاکہ وہ جسم کے جھلسے ٹکڑوں کو اپنے آنسوؤں سے ہی ٹھنڈا کردیتے…بار کونسلوں میں روپے بانٹنے کے لیے طیارے فراہم کیے جاسکتے ہیں مگر نعشوں پر اشک بہانے کے لیے سوگواروں کو لے جانے والا کوئی طیارہ نہیں!تعزیتی دورے کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز موجود ہیں کیونکہ ”خبر“ بنوانی ہے لیکن جنہیں ”خبر“ دینا ضروری ہے وہ ” بے خبر“ اپنے ہی پیسوں سے ٹکٹ خرید کر اعضا سے مکمل جسم تک کی شناخت کے سفر پر اکیلے ہی نکل پڑے ہیں…راستے میں ایک اطلاع ملی تو ہے کہ مرنے والوں کے ”بچ جانے والوں“ میں حسب ِ روایت پانچ پانچ لاکھ روپے کی ”امداد“تقسیم کی جائے گی،اِس حادثے پرقومی پرچم بھی سرنگوں رہے گا، سوگ بھی منایا جائے گا اورفرمانے والی ہستی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اِس الم ناک سانحے پر پوری قوم غم سے نڈھال ہے ،ہم میں سے بیشتر خون کے آنسو رو رہے ہیں جبکہ کئی ایک نے تو تمام سرکاری مصروفیات معطل کردی ہیں اور دن بھر ٹی وی کے سامنے براجمان سکتے کے عالم میں جہاز کا ملبہ دیکھ رہے ہیں…کچھ دنوں کے بعد اطلاعات ملیں گی کہ شہدا کے پسماندگان کو ابھی تک چیکس نہیں ملے ہیں اور پھر عزت نفس پامال کرنے اور مسلسل چکر لگوانے کے بعد ”ٹیکس منہا کر کے “بچی کچھی امدادی رقوم کی تقسیم کے منظر نامے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنوائے جائیں گے …”سنہرے اقوال “اِن سرخیوں کے ساتھ صفحہ اول پر چھپیں گے کہ ”سانحہٴ مارگلہ کے شہدا کے لواحقین میں امدادی رقوم کی شفاف منتقلی حکومت کا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جوصرف جمہوری دورِ ہی میں ممکن تھا، آپ جلد دیکھیں گے کہ سانحے کی تحقیقات مکمل ہوتے ہی ذمے دار عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور اُنہیں قانون کے شکنجے میں لاکر سخت سے سخت سزا دی جائے گی“…اور اِسی ولولہ انگیز خطاب کے دوران جلسے کی اگلی صف میں بیٹھے شہدا کے گھر والے اپنا اپنا نام پکارے جانے پر آہستگی سے اٹھیں گے اور اسٹیج پر پہنچ کرقوم کے کسی پُرمشفق رہنما کے دست کرم میں محفوظ امدادی چیک اپنے پتھرائے ہوئے ہاتھوں سے تھامتے ہوئے واپس جاکر اپنی نشست پر خاموشی سے بیٹھ جائیں گے …ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور ایسا ہی ہوگا…جس طرح جا بجابکھرے ہوئے بے جان اعضا خود مل کر اٹھائے ہیں، اے میرے ہم وطنو! اب اپنی جان کو خود ہی سنبھالنے کی بھی کوئی تدبیر کرو!…جس نجی ائیر لائن کے طیارے کو یہ حادثہ پیش آیا وہ تو وقوعے کے بعد ہی اتنی”غریب“ اور ”دیوالیہ“ ہوگئی کہ وہ تمہارے اپنوں کے ناقابل شناخت ٹکڑوں کے پاس تمہیں پہنچانے کے لیے تم سے ”یک طرفہ ٹکٹ“ کی رقم کا مطالبہ کرتی رہی…اورپھروہاں پہنچنے کے بعدتم کہاں رہتے؟ کیا کھاتے؟کس سے پمز اسپتال کا پتہ پوچھتے پھرتے؟ اِس سے اِنہیں کوئی سروکار نہیں یہ تو سمجھتے ہیں کہ غم زدوں کے آنسوؤں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اُسے پینے کے بعد بھوک پیاس کے لگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!…بہرکیف جب وہاں پہنچو تو اُن ”دیوانوں“ سے کچھ نہ کہنا جو اب تلک یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اُن کا کوئی اپنا اِس حادثے میں شہید ہوگیا ہے…وہ تو کہتے پھر رہے ہیں کہ ”تم سب جھوٹے ہو، وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ کچھ مسافر زندہ بچ گئے ہیں، عبدالرحمن ملک کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اُنہوں نے تو ہمیں آس دلائی ہے ، ابھی دیکھنا کہ تھوڑی ہی دیر بعد اطلاع ملے گی کہ ہمارا بھیازندہ ہے ، اسپتال کے کسی بستر پر ماں جی بھی مسکراتی ہوئی نظر آئیں گی اور نٹ کھٹ بہنا کی تو عادت ہی ہے کہ اپنے بھائی کو تنگ کرے ،مجھے معلوم ہے کہ وہ اب تک جان بوجھ کر چھپی ہوئی ہے تاکہ میں اُس کی پسند کا موبائل فون اُسے دلانے پر راضی ہوجاؤں، بس وہ ایک بار میرے سامنے آجائے اور صرف اتنا کہہ دے کہ بھائی جان میں ٹھیک ہوں! تو میں ایک موبائل توکیا اپنا پورا جیون اُس پر نچھاور کردوں گا…عبدالرحمن ملک جھوٹ نہیں بول سکتے ، بھلا اتنا بڑا آدمی بھی کبھی غلط بات کرسکتا ہے ، یہ میڈیا والے تو بس ایسے ہی اپنا چینل چلانے کے لیے من گھڑت خبریں چلا رہے ہیں ، میں تو خود دیکھ کر آیا ہوں ، جائے حادثہ پر جہاز کے ملبے کے سوا کچھ نہیں، اگر کوئی مرا ہوتا تووہاں کسی کی لاش تو ہوتی جو کہ وہاں نہیں ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے تو وہاں پر خون بھی دکھائی نہیں دیا ، سارے زخمی اِسی اسپتال میں ہیں اور ابھی تھوڑی ہی دیر میں یہ اعلان تم خود ہی سن لینا کہ ”حادثے میں جہاز کے تمام مسافر بچ گئے ہیں“… ممکن ہے کہ عائشہ اور آصف یہیں کہیں کھوگئے ہوں، رومیہ اور اویس کی خوشبو بھی تو یہیں سے آرہی ہے اور وہ سب سے چلا چلا کر کہیں کہ آؤ غم خوارو!یہاں اپنے بچوں کی نشانیاں ڈھونڈو!… دیکھو کہیں رضوان کی دلہن کی بالی یا اُس کے بچوں کے خاکستر کھلونے نظر آجائیں، شاید کوئی ادھ جلا دوپٹہ ہی نئی نویلی دلہن کا سراغ دے جائے ، شادی والے روز داماد کو جو گھڑی پہنائی تھی ہو سکتاہے کہ اُس کا ڈائل ابھی سلامت ہو ، بس جس کلائی میں کھال کے ساتھ چپکی ہوئی چین نظر آجائے سمجھ لو وہی جگر گوشہ کا ہاتھ ہے …ارے! یہ ایک چھوٹی سی قمیص کیسے بچ گئی؟ آگ کے شعلوں کو بھی کیا کبھی رحم آیا ہے یا پھر دو کم سن بچوں کو کھاتے کھاتے اُس کے بھی آنسو نکل پڑے ہوں اور اُس سے یہ قمیص نہ کھائی گئی ہو… اے میرے وطن کے لوگو! یہاں سب کو اپنی اپنی پڑی ہے، کچھ ائیر لائن بچانا چاہتے ہیں اور کچھ ایک ”نئی لائن“ پر اِس سانحے کا رخ کہیں اورموڑنا چاہتے ہیں…کوئی بضد ہے کہ اِسے تخریب کاری کا نام دے کرایوانِ صدر ، وزیراعظم ہاؤس اورپارلیمینٹ پر حملے کی ناکام سازش جیسے پرکشش جملوں کا بیان بنادیا جائے تا کہ ”اغیار“ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر چند ”بریف کیس“ اور مل جائیں …اورکسی کا اصرار ہے کہ ”باریش پائلٹ“ کے بارے میں تحقیقات کی جائیں کہ اُن کا ”ملنا جلنا“ کہاں اورکس سے تھا؟… بے شک احساس سے عاری، لذت کے بھوکوں اور خواہش کے پیاسوں کے دسترخوان پر ایسے ہی متعفن خیالات چنے جاتے ہیں …وقت کا تقاضا تو یہی تھا کہ ہم سب ایک ہوکر دکھیاروں کا دکھ بانٹتے اورجو بھی ہم سے بن پڑتا اُن کے لیے کرتے۔ مگر شاید اِس کمرشل دور میں اب یہ ممکن ہی نہیں رہا ہے کیونکہ اب تو اِس سانحے کے بعد ویسے بھی کمرشل عفریتوں کو ایک نیاکاروبار مل گیا ہے … جائے حادثہ پرسب سے پہلے کون پہنچا، یا پھروہ کون سا چینل تھا جو جہاز گرنے کی خبر سب سے پہلے دینے میں کامیا ب رہا؟اور شاید وہ بھی عظیم چینل تھا جس نے بیٹے کی موت کی خبر سب سے پہلے نشر کر اُس کی ماں کو بھی دم توڑنے پر مجبور کردیا… اِن شہدا میں میرا بلال جامعی بھی تھا، ”عالم آن لائن“ کا ایک مستقل کالر اور جامعہ کراچی میں عزیزم ابصار احمد کی زیرنگرانی ”عامر لیاقت فین کلب“ کا جنرل سیکریٹری… لیکن میں اپنے بلال سے ایک وعدہ پورا نہیں کر سکا،اُس نے مجھ سے میرا ایک کرتا مانگا تھااور مجھ سے کہا تھاکہ ”عامر بھائی! آپ یہ کرتا میرے سوا کسی کو نہیں دیں گے “میں نے بھی اُس سے وعدہ کیا تھا کہ بلال! اب اِس کرتے کو تمہارے سوا کوئی نہیں پہنے گامگریہ کیابلال! تم تو اپنے عامر بھائی کو چھوڑ کر ہی چلے گئے،اب میں یہ کرتا کسے دوں؟ اچھا! صرف ایک بار کرتا لینے کے لیے توواپس آجاؤ بلال۔