Urdunews.net
وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی
   
 
    
  Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Thursday, September 09, 2010, Ramzan 29, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی
آج سوگ کا دن ہے۔ دارالحکومت‘ اسلام آباد جہاں تباہی اور ہلاکتوں کا کھیل بہت عرصے تک کھیلا گیا‘ کچھ دنوں سے پرسکون تھا۔مگر وہاں کے شہریوں کا یہ سکون قائم نہ رہ سکا اور ایسا دردناک حادثہ رونما ہوا‘ جو میریٹ‘ مصری سفارتخانے میں دھماکے‘ آبپارہ اور پولیس ٹریننگ سینٹر پر خودکش حملوں‘ لال مسجد کے سانحے اور اسی طرح کی دیگر تباہ کاریوں اور ہلاکتوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔نہیں کہا جا سکتا کہ یہ محض ایک سانحہ تھا یا قبل ازیں پیش آنے والے واقعات کی طرح تخریب کاری اور دہشت گردی۔ یہ سوال کبھی حل نہیں ہو گا۔ جہاز کے اندر موجود ہر ذی نفس کوئی شہادت یا بیان دینے کے لئے زندہ نہیں رہ گیا۔ فضائی سفر کے طور طریقوں کی روشنی میں اس سانحے کا کئی پہلوؤں سے جائزہ لیاجا رہا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے ہر پیشہ وارانہ اور ماہرانہ‘ پہلو سے اس سانحے کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ چھان بین کے دوران جو بات نمایاں ہو کر سامنے آئی‘ وہ بے حد تشویشناک ہے۔ پتہ یہ چلا کہ ہمارے دارالحکومت کے انتہائی حساس مقامات ہر وقت خطرے کی زد پر ہیں۔ ہر ایئرپورٹ پر جہازوں کو اترنے سے پہلے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس انتظار کے لئے اسے ایئرپورٹ کے چاروں طرف پانچ میل کے دائرے میں پرواز کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئی ہے کہ دنیا کے بہت سے ایئرپورٹ ایسی جگہوں پر واقع ہیں‘ جہاں پانچ میل کے اس دائرے میں کافی بلند پہاڑ آتے ہیں۔ مثلاً ایتھنز کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہو کر دیکھیں‘ تو لینڈ کرنے والے طیارے پہاڑ کے پیچھے سے اچانک نمودار ہوتے ہیں‘ تو ان کے پہیے پوری طرح کھلے ہوتے ہیں اور وہ سیدھے رن وے پر اترنے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جس طرح وہ‘ قطار کے اندر سے نکل کر رن وے کی طرف آتے ہیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں دیر تک پانچ میل کے دائرے کے اندر گھومنا پڑا ہو گا۔ انقرہ کا ایئرپورٹ بھی کم و بیش اسی طرح کے مقام پر ہے۔ لیکن نہ تو سول ایوی ایشن اور نہ ہی پائلٹوں کو لینڈنگ کے انتظار میں پہاڑوں کے اوپر نچلی پروازیں کرتے وقت کوئی مشکل پیش آتی ہے اور نہ ہی راڈار اور کنٹرول ٹاور والوں کے ساتھ رابطوں میں خلل پڑتا ہے۔ بدھ کو سانحے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کے ساتھ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوا۔ کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کے درمیان جو بھی بات چیت ہوئی اس میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ پھر طیارہ مقررہ دائرے سے باہر کیسے گیا؟ اسلام آباد کے شہری بیک زبان کہہ رہے ہیں کہ ایئرپورٹ پر اترنے والے کسی بھی مسافر طیارے کو مارگلہ کی پہاڑیوں کے اوپر اس حالت میں نہیں دیکھا گیا‘ جیسے حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ نظر آیا۔ اس حوالے سے دو سینئر صحافیوں خوشنود علی خان اور صالح ظافر کے مشاہدے غور طلب ہیں۔
طیارے کی بات یہیں چھوڑتے ہوئے‘ میں اس تشویش کی طرف آتا ہوں‘ جو یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد پیدا ہوئی کہ ہمارے دارالحکومت کے حساس ترین مقامات‘ پانچ میل کے اس دائرے کے اندر آتے ہیں‘ جس میں لینڈنگ کے منتظر طیاروں کو پرواز کرنا ہوتی ہے اور ذرا سی لغزش سے ان طیاروں کا دائرہ پرواز 8میل ہو جائے‘ تو پھر ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس‘ قومی اسمبلی اور دنیا بھر کے سفارتی مراکز بھی اس دائرے میں آ جاتے ہیں۔ جی ایچ کیو تو پانچ میل سے بھی کم فاصلے پر رہ جاتا ہے۔ 9/11کو مسافر طیاروں کا دہشت گردی کے لئے جس طرح استعمال کیا گیا‘ اس کے بعد دنیا بھر میں سلامتی کے نئے تصورات اور قواعد و ضوابط معرض وجود میں آئے۔ ایئرپورٹس کے محل وقوع کے جائزے لے کر‘ سلامتی کے نئے اصول وضع کئے گئے اور پروازوں کے راستے بھی نئی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق بدلے گئے۔ پاکستان میں ایسا ہوا یا نہیں؟ یہ میں نہیں جانتا۔ مگر اب یہ سوال یقینی طور پر زیرغور لانا پڑے گا کہ مسافر طیاروں کی پروازوں کے لئے لینڈنگ کی باری کا انتظار کرنے کے لئے‘ جو حدیں پہلے سے چلی آ رہی ہیں‘ کیا ان میں ردوبدل کی ضرورت ہے؟
اسلام آباد ایئرپورٹ کے محل وقوع پر بھی نظر ڈالنا ہو گی۔ یہاں پر لینڈنگ سے پہلے انتظار کے لئے پرواز کا دائرہ کسی بھی طرح سے یوں نہیں بنایا جا سکتا کہ حساس مقامات اس میں سے باہر نکال دیئے جائیں۔ لینڈنگ کی منتظر کوئی بھی پرواز اتنے تنگ دائرے میں نہیں گھوم سکتی کہ اس کے اندر سے جی ایچ کیو کو باہر نکالا جا سکے اور اگر دہشت گرد کسی طیارے پر قبضہ کے اسے مقررہ دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کریں تو اسے ناکام بنانے کے لئے کسی بھی حفاظتی مشینری کو بروئے عمل لانے کا وقت نہیں بچتا۔ جیسے ایئر بلو کے بدنصیب طیارے کے تجربے سے ثابت ہوا کہ وہ نوفلائی زون میں چلا گیا۔ اگر یہ طیارہ ایوان صدر کا رخ کرنا چاہتا‘ تو نشانے سے 30 سیکنڈ سے بھی کم فاصلے پر تھا اور مزید چند سیکنڈ کا فاصلہ امریکی سفارتخانے سے رہ گیا تھا۔ بدھ کواسلام آباد کے تمام فضائی دفاع پر نظرثانی کرنے کی ضرورت سامنے آئی ہے۔ اب اس پر غور و فکر کرنا لازم ہو گیا ہے۔
بہت دنوں سے سن رہے ہیں کہ فتح جنگ کے مقام پر اسلام آباد کا نیا ایئرپورٹ بننے والا ہے۔ وہ کس حالت میں ہے؟ اور کب بنے گا؟ یہ واضح نہیں۔ لیکن ابھی سے دیکھ لینا چاہیے کہ اگر وہ ایئرپورٹ بن رہا ہے‘ تو اس پر لینڈنگ کے لئے انتظار کرنے والے طیاروں کا دائرہ پرواز کیا ہو گا؟ کیونکہ ابھی وہ ایئرپورٹ نہیں بنا‘ اس لئے اس کے چاروں طرف کم از کم 8میل کے اندر اندر حساس تعمیرات ممنوع قرار دے دینا چاہئیں اور اگر کچھ حساس مقامات پہلے سے موجود ہیں‘ تو پھر ایئرپورٹ کے مقام کو بدل دینا چاہیے۔ ملک کے تمام شہروں کے ایئرپورٹس کے گردونواح کا جائزہ لے کر بھی یہ اہتمام کر لینا چاہیے کہ کسی ایئرپورٹ کے چاروں طرف پانچ میل کے اندر کوئی حساس جگہ موجود نہ ہو۔ اگر کہیں ہے تو اسے منتقل کر دینا چاہیے۔
اب میں واپس سانحے کی طرف آتا ہوں۔ میڈیا میں جس تفصیل کے ساتھ ہر پہلو سے جائزے لئے گئے ہیں‘ وہ پاکستان میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس سے پہلے صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا تھا‘ جب بھارتی طیارہ اغوا کر کے لاہور لایا گیا۔ میں ان دنوں ”جنگ “کا ایڈیٹر رپورٹنگ تھا۔ میں نے خوشنود علی خان کی سربراہی میں رپورٹرز کی ایک ٹیم تیار کر کے لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کا ایک سسٹم تیار کیا اور خوشنود علی خان کے سپرد کر دیا۔ اردو میں اس طرح کی رپورٹنگ پہلی مرتبہ ہوئی تھی۔ اگلے روز ہر طرف ”جنگ“ اخبار کی مانگ تھی اور پرنٹنگ پریس اسے پوری نہیں کر پا رہا تھا۔ خوشنود علی خان اپنے مشاہدات لکھتے رہتے ہیں۔ کبھی فرصت ملے تو اپنا یہ کارنامہ بھی لکھ ڈالیں۔ یہ پرانا قصہ لکھتے لکھتے یاد آیا کہ طیارے کے حادثے پر کی گئی رپورٹنگ میں‘ میری نظر سے کچھ چیزیں نہیں گزریں۔ یہ سوال رہ گئے کہ کیا لینڈنگ پرمشن کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟ پرواز سے پہلے پائلٹ کا فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا؟ اور کیا یہ تفصیل معلوم کر لی گئی تھی کہ اپنی گزشتہ پرواز کے بعد ‘نئی پرواز کا چارج لیتے وقت پائلٹ‘ کو آرام کا اتنا وقفہ مل چکا ہے جو عالمی ضوابط کے تحت ضروری ہے۔ نوفلائی زون میں طیارہ ایسے مقام پر تھا جہاں سے ایوان صدر اور امریکی سفارتخانے تک پہنچنے میں‘ چند سیکنڈ رہ گئے تھے۔ کیا حفاظتی انتظامات کے ذمہ داروں کے پاس آرڈر لینے کا وقت رہ گیا تھا؟ کیا حفاظتی مشینری حرکت میں آ گئی تھی؟ اور اگر نہیں آئی تھی‘ تو کیوں نہیں آئی تھی؟ اور اس کا کیا مطلب ہے کہ موقع پر پہنچنے والے ایک شخص نے تباہ شدہ جہاز کے پاس کھڑے چند نوجوانوں کو نعرہ تکبیر اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ کیا یہ ان کے کسی ساتھی یا ساتھیوں کا کارنامہ تھا؟ جہاز کے لڑکھڑانے اور ڈولنے کی تفصیل بتائی گئی ہے‘ کہیں جہاز کے اندر کوئی راشدمنہاس تو مزاحمت نہیں کر رہا تھا؟ کیونکہ پائلٹ صاحب کے طور طریقے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی حد تک انتہاپسندی کی طرف مائل ضرور تھے۔

 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Urdunews Online    |    Urduseek.com    |    Jang    |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback
 
0