Urdunews.net
مرگلہ میں آگ اور خون۔ بہت سے سوالات کررہے ہیں
   
 
    
  Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 10, 2010, Ramzan 30, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share مرگلہ میں آگ اور خون۔ بہت سے سوالات کررہے ہیں
پورا ملک سوگوار ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے درمیان بکھرے ہوئے انسانی اعضا اور بدقسمت طیارے کے درختوں میں پھنسے ہوئے ٹکڑوں کے ہولناک مناظر دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کئے دیتے ہیں۔ نوبیاہتا جوڑوں کے چہرے ابھرتے ہیں جن کا نئی زندگی کا سفر موت کی وادیوں کی طرف جا نکلا۔ جن گھروں میں خوشیوں کے نغمے گونج رہے تھے وہاں سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ ان کے جگر گوشے، ان کے ناز اٹھانے والے بھائی، ان کے شفیق باپ، ان کا خیال رکھنے والے شوہر یکلخت کسی اور دنیا میں جابسے۔ باپ، بیٹے، بھائی اپنے بچوں، بزرگوں، بھائیوں، بہنوں، دعائیں دینے والی ماؤں کے غم سے نڈھال ہیں۔ کئی کمسن بچوں اور بچیوں کو تو یہ پتہ بھی نہیں کہ وہ یتیمی ویسیری کے کس پہاڑ تلے آچکے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا دکھ اور صدمہ ناقابل بیان ہے۔ مگر دوسرے ہموطن بھی حادثے کی تصاویر دیکھ دیکھ کر غم و اندوہ کی تصویر بن چکے ہیں۔ ذہنوں میں سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ بدھ کی صبح کو کراچی سے اسلام آباد جانے والے طیارے اور اس کے مسافروں کے ساتھ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟ اہل وطن کی ہمدردیاں ان خاندانوں کے لئے فطری ہیں جن کے پیارے بچھڑ گئے۔ نذر اجل ہونے والوں میں کئی معروف شخصیات بھی تھیں۔ان میں ایسے فعال و سرگرم نوجوان بھی شامل تھے جن سے قوم کے اچھے مستقبل کی اُمیدیں وابستہ کی جاسکتی تھیں۔ مگر لمحوں میں جہاز کے ٹکڑوں کے ساتھ بہت کچھ بکھر گیا۔ کتنوں کے خواب اَدھورے رہ گئے اور کتنوں کی زندگی کی داستان درمیان میں ختم ہوگئی۔ مگر اُن کے عزیزوں اور چاہنے والوں کے لئے یہ سب کچھ بھلانا آسان نہ ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق کراچی سے بدھ کی صبح 7 بجکر 42 منٹ پر 6 رکنی عملے سمیت 152 افراد کو لیکر روانہ ہونے والی نجی کمپنی کی ایئر بس کو تقریباً ساڑھے 9 بجے ایئرپورٹ پر اُترنا تھا۔ رن وے مصروف ہونے کے باعث طیارے کو فضا میں چکر لگانے کی ہدایت کی گئی جو بعدازاں کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے اور خراب موسم کے باعث 9 بجکر 42 منٹ پر مارگلہ پہاڑیوں پر گر کر تباہ ہوگیا۔ اندرون ملک رونما ہونے والے سب سے بڑے حادثے کی تحقیقات کے لئے کئی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔ تحقیق کے نتائج آنے میں وقت لگے گا مگر عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں رونما ہونے والے فضائی حادثوں کی تحقیقاتی رپورٹیں اکثر منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ اس وقت حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے موسم کی خرا بی، سانحہ بھاولپور کی طرح خواب آور گیس کے ذریعے عملے کے حواس معطل کرنے، پائلٹ کی غلطی، تکنیکی مسائل اور تخریب کاری سمیت مختلف امکانات کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ ان سب پہلوؤں پر پوری طرح تحقیق و تفتیش ہونی چاہئے ۔مگر اس بدنظمی کے تدارک کے لئے بھی سنجیدہ تدابیر ضروری ہیں جو اس نوع کے ہر سانحے کے بعد دیکھنے میں آتی ہے۔حادثے کے بعد مختلف اداروں کی طرف سے اپنی غفلت کی پردہ پوشی کے لئے کی جانے والی تاویلوں اور میڈیا کے سامنے بلاسوچے سمجھے بیانات دینے کی روش نے اس غم کو زیادہ گہرا کردیا۔ ایک موقع پر پانچ زخمی افراد کو جائے حادثہ سے نکال کر اسپتال پہنچانے کا بیان دیا گیا۔ یہ خبر بعد میں دی گئی کہ کوئی مسافر زندہ نہیں بچا۔ آپریشن کی ایک ذمہ دار شخصیت کی طرف سے میڈیا کو بتایا گیا کہ اسے ملبے میں پھنسی ہوئی ایک خاتون کی ٹیلیفون کال ملی ہے۔ بعد میں سب ہی اس پُراسرار کال کو بھول گئے۔ اسی طرح بلیک باکس کے ملنے اور نہ ملنے کے بارے میں متضاد اطلاعات دی جاتی رہیں۔ بلاشبہ میڈیا معلومات کے جلد حصول کے لئے رسائی میں آنے والی شخصیات سے سوالات پوچھتا ہے مگر اس کو بیان بازی کا شوق پورا کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہئے۔ جہاں اتنی جانوں کا مسئلہ ہو وہاں پوری احتیاط، معلومات کی صحت اور سوچ بچار کی ضرورت ہوتی ہے جو دیکھنے میں نہیں آئی۔ہمارے ہاں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ادارہ کم از کم کاغذوں اور اخباری خبروں کی حد تک ضرور موجود ہے۔ اس کے قیام کا مقصد ہی یہ بتایا گیا تھا کہ زلزلوں، قدرتی آفات اور دوسرے مصائب سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیاری کی حالت برقرار رکھی جائے گی۔ لوگوں کو اداراتی سطح پر بھی اور مختلف علاقوں میں گروپوں کی شکل میں بھی ایسی تربیت دی جائے گی جس کے ذریعے ہنگامی حالات میں امدادی کاموں کو ترتیب اور نظم سے برو ئے کار لانا ممکن ہو۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مشکل حالات میں اپنے طور پر مدد فراہم کرنے کی کوششیں کرتے ہیں تاہم تربیت کے فقدان کے باعث ان کی بہترین کاوشیں بھی بعض اوقات موثر نتائج دینے کے قابل نہیں ہوتیں۔ مگرمذکورہ حادثے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے تربیت یافتہ لوگ، فنی سہولتیں اور جلد امداد پہنچانے والے وسائل نظر نہیں آئے۔ شہری ہوا بازی کے محکمے کے اپنے قواعد ہیں جن کے تحت مسافروں کی حفاظت کے لئے حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین بھی اس ادارے کو بہت سے اقدامات کے پابند بناتے ہیں مگر ہمارے ہاں شہری ہوا بازی کے ادارے کی توجہ ہوائی اڈوں کے عمارتوں اور اپنے اختیارات کے غیر ضروری اظہار تک محدود نظر آتی ہے۔ ہمارے سرکاری اداروں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں 3 بجے سہ پہر مردہ خانے پہنچانے کا عمل شروع ہوااس سے پہلے صرف ایک لاش پہنچی تھی۔کہا جاتا ہے کہ حادثے کے مقام تک آمدورفت کی دشواری کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ۔مگر اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ ہنگامی امداد کے لئے قائم اداروں کے فرائض میں سڑکوں کی تعمیر سمیت وہ تمام امور شامل ہیں جن کا سانحات کے موقع پر نقصانات کم کرنے سے تعلق ہے ۔ایک زمانے میں تعلیمی اداروں، محلّوں اور دیہات میں لوگوں کو شہری دفاع کی تربیت دی جاتی تھی جو ایسے ہنگامی حالات میں بہت کارآمدثابت ہوتی تھی مگر پچھلے برسوں سے اس اہم ذمہ داری سے مجرمانہ حد تک غفلت برتی جارہی ہے۔ یہ امر بھی افسوس ناک ہے کہ جان لیوا حادثوں کی تحقیقات بھی بیشتر حالتوں میں وہی ادارے کرتے ہیں جو ان سانحوں کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اورہنگامی حالات میں فوری مدد پہنچانے کی ذمہ داری اور مانیٹرنگ جن اداروں پر عائد ہوتی ہے، ان کا اتنے بڑے حادثے کے بعد نظر نہ آنا افسوسناک ہے۔ اس کی سپریم کورٹ کی سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے اور اداروں کو فعال بنانے کی تدابیر کی جانی چاہئیں۔ بدھ کے حادثے میں جو لوگ جاں بحق ہوئے ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ رب کریم انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے(آمین)۔حکومت کے متعلقہ اداروں کو بھی غمزدہ خاندانوں کا دکھ بانٹنا چاہئے۔ تحقیقاتی نتائج کے انتظار کو تاخیری بہانہ بنانے کی بجائے فوری طور پر وہ سب کچھ کرنا چاہئے جو لاشوں کی حوالگی سمیت پسماندگان کی مدد کے لئے کیا جاسکتا ہے۔

سیلاب زدگان کی مشکلات کاازالہ کیا جائے!
عوام دہشت گردی، گرانی، بجلی کے بحران اور سنگین نوعیت کے جرائم اور منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کی اذیت سے نجات حاصل نہ کر پائے تھے کہ موسم برسات کی ابتدائی چندروزہ بارشوں نے انہیں ایک او ر اذیت ناک صورتحال سے دوچار کردیا ہے اورپورے ملک میں سیلاب اور دریاؤں میں آنے والی طغیانی نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور کردیا۔ متاثرین کی امداد اور بحالی کیلئے کوئی موثر اقدام سامنے نہیں آیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دریائے چناب اور جہلم میں زبردست سیلاب، منگلا ڈیم کی سطح بلند ہونے او ر بارشوں اور سیلابی ریلے میں مزید 77 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہوگئے۔ خیبر پختونخوا میں زبردست تباہی مچ گئی درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے اور فوج طلب کرلی گئی ہے۔ سینکڑوں مکانات منہدم او ر شاہراہ قراقرم بند کردی گئی ۔درجنوں دیہات زیرآب آ گئے، کراچی میں چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 12افراد جاں بحق ہوگئے۔ چنیوٹ میں 60 دیہات کے لوگ نقل مکانی کر گئے۔ ہیڈمرالہ اور بجوات میں 18دیہات زیر آب آگئے ہیں، بلوچستان میں بھی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور سبی اورگوادر میں لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں انہیں کوئی امداد بھی فراہم نہیں کی جاسکی۔ ہر سال موسم برسات کی بارشوں سے ملک کے اکثر صوبوں میں بڑی مخدوش صورتحال پیدا ہوتی ہے لیکن متاثرین کی نقل مکانی اور امداد کی فراہمی ہمیشہ ایک مسئلہ بن جاتی ہے اور تمام تر دعووں کے باوجود حکومت کی طرف سے قبل از وقت کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ عوام کو درپیش اس صورتحال کا ازالہ اور سیلاب سے قبل ضروری حفاظتی اقدامات اور متاثرین کی امداد او رمنتقلی کے انتظامات کو حتمی شکل دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔




 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Urdunews Online    |    Urduseek.com    |    Jang    |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback
 
0