65 کی جنگ اور پاکستانی پائلٹ کا افسوس

65 کی جنگ اور پاکستانی پائلٹ کا افسوس

September 20, 2017 - 14:24
Posted in:

19 ستمبر سنہ 1965 کے روز گجرات کے وزیر اعلیٰ بلونت رائے مہتا نے دن کی ابتدا علی الصبح کی۔ 10 بجے انھوں نے این سی سی کی ایک ریلی سے خطاب کیا۔ دوپہر کے کھانے کے لیے گھر واپس آئے اور پھر ڈیڑھ بجے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہو گئے۔ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سروج بین، تین ساتھی اور 'گجرات سماچار' سے وابستہ ایک صحافی ساتھ تھے۔ جیسے ہی وہ ہوائی اڈے پہنچے، انڈین ایئر فورس کے سابق پائلٹ جہانگیر جنگو انجینیئر نے انھیں سلیوٹ کیا۔٭ ’65 کی جنگ میں جب انڈین کمانڈر چھپ گئے‘ہوائی جہاز میں سوار ہوتے ہی جنگو انجینیئر نے اپنا بریچکرافٹ طیارہ سٹارٹ کیا۔ انھیں یہاں سے 400 کلومیٹر کے فاصلے پر دوارکا کے میٹھا پور جانا تھا جہاں بلونت رائے کو ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنا تھا۔ ادھر ساڑھے تین بجے کے آس پاس پاکستان کی میرپور ائیر بیس پر فلائٹ لیفٹینٹ بخاری اور فلائنگ افسر قیس حسین سے کہا گیا کہ بھج کے پاس ریڈار پر آنے والے ایک ہوائی جہاز کو چیک کریں۔

انہوں نے کہا کہ 'میں اس طرح کے الزامات میں سے کسی ایک کا بھی حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔' فریدہ سنگھ کو اس سے پہلے پتہ نہیں تھا کہ قیس حسین نے انھیں اس طرح کے ایک خط لکھا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا: 'مجھے پتہ چلا کہ جس پائلٹ نے میرے باپ کے ہوائی جہاز کو گرایا تھا وہ مجھے تلاش کر رہا ہے۔ مجھے یہ سن کر پہلے تو ایک جھٹکا سا لگا کیونکہ میں اپنے والد کی موت کے بارے میں مزید کچھ سننا نہیں چاہتی تھی۔' 'میرے دوست نے مجھے بلایا اور کہا کہ آپ کے نام سے اخبار' انڈین ایکسپریس' میں ایک خط شائع ہوا ہے اور میں نے فوری طور پر اپنا ای میل کھولا اور اسے پڑھ کر میں جواب دینے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس خط میں کوئی لاگ لپیٹ نہیں تھا اور وہ دل سے لکھا گيا تھا۔وہ کہتی ہیں: 'اس معاملے میں انھیں بہت افسوس تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا، یہ بذات خود ایک بڑی بات تھی، وہ ذاتی طور پر میرے والد کے خلاف نہیں تھے۔' قیس کا کہنا ہے کہ 'ان کا جوابی ای میل بہت اچھا تھا۔ میں نے تو بس ابھی ایک قدم بڑھایا تھا لیکن انھوں نے کئی قدم آگے بڑھائے تھے۔۔۔' فریدہ کا کہنا ہے کہ میں حیران ہوں کہ 46 سال کے بعد انھوں نے ایسا کیوں کیا: 'لیکن ایک بات میرے دماغ میں آئی کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی ہے تو کوئی تو مرحم لگانے کا کام کرے اور انھوں نے اس میں پہل کی۔''میں کوئی ایسی چیز نہیں لکھنا چاہتی تھی جس سے ان کو کو ئی تکلیف ہو۔۔۔ میں نے ایک منٹ بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ پائلٹ کی غلطی ہے، وہ لڑائی میں لڑ رہا تھا، یہاں تک کہ سب سے بہتر لوگ بھی لڑائی میں وہ کر گزرتے ہیں جو وہ کرنا پسند نہیں کرتے۔' 'میں نے ان کو لکھا کہ لڑائی کے کھیل میں ہم سب پیادے ہوتے ہیں۔۔۔ میں نے ان کو لکھا تھا کہ میں امید کرتی ہوں کو اس کے بعد آپ کو سکون ملے گا۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}