62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی، سپریم کورٹ کا فیصلہ

62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی، سپریم کورٹ کا فیصلہ

April 13, 2018 - 11:30
Posted in:

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے مطابق عوامی نمائندوں کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے اور جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نا اہل قرار دیتا ہے۔

اسلام آباد — 
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ارکانِ پارلیمان کی نااہلی کی مدت سے متعلق درخواستوں پر اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہونے والی نااہلی تاحیات ہوگی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق عوامی نمائندوں کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے اور جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نا اہل قرار دیتا ہے۔
درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی برقرار رہے گی۔
جمعے کو سنائے جانے والے فیصلے کا آپریٹو حصہ مقدمے کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا۔
فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ہی تحریر کیا ہے جس میں جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ لکھا ہے۔
اس مقدمے میں 13 درخواست گزاروں کی اپیلوں پر سماعت ہوئی تھی اور بینچ نے 14 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالت نے اس مقدمے میں سینئر وکلا منیر اے ملک اور علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔
فیصلے کے باعث سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین تاحیات نااہل ہوگئے ہیں۔

VOA بشکریہa {display:none;}