50 لاکھ سستے مکان، کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

50 لاکھ سستے مکان، کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

October 12, 2018 - 06:50
Posted in:

پارلیمانی سیکریٹری تاشفین صفدر نے کہا کہ اتنے بڑے منصوبے میں جو حکومتی ادارے، نجی شعبہ اور غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہوں گے تو اس میں سب سے پہلے نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تعمیراتی سامان سے منسلک صعنت کو فائدہ ہوتا ہےلیکن اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مکانات کی تعمیر کی تربیت بھی دی جائے گی اور ساتھ رہائشی منصوبوں کے اندر بھی روزگار کے یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ کیا واقعی میں روزگار کے دروازے کھل جائیں گے؟اس پر انجنینیئر سرفراز احمد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہاؤسنگ کا کوئی بڑا منصوبے شروع کیا جائے تو اس میں بڑی تعداد میں صنعتوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں سیمنٹ، کرش، بجلی کے تار، سینٹری، لکڑی کا سامان، سوئچ وغیرہ کی صنعتوں کو آرڈر ملنا شروع ہو جاتے ہیں جسے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ گھروں کی تعمیر میں بھی اچھی خاصی افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں مکانات کی عوامی سیکمیں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی ہیں لیکن موجودہ حکومت نے ماضی کی برعکس منظم انداز میں اس سکیم کو شروع کرنے کا عزم کیا ہے تاہم ماہرین کے مطابق دیکھنا یہ ہے کہ وقت کے ساتھ معاشی طور پر اس میگا پراجیکٹ کو حکومت کس طرح ٹریک پر رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے اور اس میں مکانات کی چابی کو سرمایہ کاروں کی بجائے ان کے اصل حق داروں تک پہنچانا کا مقصد پورا کرنا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}