18 سال بعد پاکستان پہنچنے پر گزین مری گرفتار

18 سال بعد پاکستان پہنچنے پر گزین مری گرفتار

September 22, 2017 - 18:09
Posted in:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سابق وزیر اور قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نوابزادہ گزین مری کو جلاوطنی ختم کر کے کوئٹہ پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ دبئی سے جمعے کی صبح ایک پرواز کے ذریعے کوئٹہ پہنچے تھے۔ہوائی اڈے سے کچھ فاصلے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود تھی۔ان کی آمد کے حوالے سے ایئرپورٹ اور اس کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا گیا تھا۔نوابزدہ گزین مری کو پولیس حکام نے ایئرپورٹ کے اندر سے ہی گرفتار کر لیا۔’اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو صرف ایک کالونی سمجھا ہے‘ ’فری بلوچستان مہم پاکستان کی خودمختاری کے خلاف سازش ہے‘بلوچستان کے وزیر داخلہ میرسرفراز بگٹی سے جب بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم نے استفسار کیا کہ گزین مری کو کیوں گرفتار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ'ہزاروں افراد کے قاتل کو کیوں گرفتار کیا جاتا ہے۔'وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات ہیں جو عدالتوں میں چلیں گے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ 'آج ہم نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ان کو ہم عدالت میں پیش کریں گے۔ باقی کام عدالتوں کا ہے کہ وہ ان کو سزا دیں یا ان کے حق میں فیصلہ کریں۔ 'ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پرامن بلوچستان کے تحت ریاست کی ایک پالیسی اور ایک طریقہ کار ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو اس پالیسی کی پیروی کرتا ہے ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ'اس طریقہ کار کے تحت جو بھی امن کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے ان کو پہلے ریاستی حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ اس کے بعد جو مقتولین کے ورثا ہیں اگر وہ ان کو معاف کرتے ہیں تو حکومت ان کو خون بہا دیتی ہے۔'وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا کہ ایک آدمی 20سال تک قتل و غارت گری کرے، ریاست کو توڑنے کی بات کرے اور وہ پھر ریاستی حکام کے سامنے سرنڈر بھی نہیں کرے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گزین مری نے خود کہا ہے کہ وہ عدالتوں کا سامنا کریں گے اس لیے عدالتوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔نوابزادہ گزین مری نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے ہیں۔سرکاری حکام کاکہنا ہے کہ بلو چستان میں جو تشدد ہورہا ہے ان میں نوابزادہ گزین مری کا بھی ہاتھ رہا ہے۔نوابزادہ گزین مری ان الزامات کے علاوہ کسی بھی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔وہ 1990 کی دہائی میں بلوچستان کے وزیرداخلہ رہے۔سابق صدر پرویز مشرف کے دور کے آغاز میں وہ متحدہ عرب امارات چلے گئے اور 18سال تک وہاں مقیم رہے۔ان کی گرفتاری کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کے وکیل ارباب محمد طاہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس نواز مری کے قتل کے مقدمے سمیت دیگر مقدمات میں ان کی حفاظتی ضمانت کرائی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں ان کو حفاظتی ضمانت کے باوجود کیوں گرفتار کیا گیا؟ نوابزادہ گزین مری کے بڑے بھائی نوابزادہ جنگیز مری کا تعلق ن لیگ سے ہے وہ بلوچستان کے وزیر برائے پانی وبجلی ہیں۔ان کے دو چھوٹے بھائی نوابزادہ حیر بیار مری اور نوابزادہ زامران مری لندن میں مقیم ہیں۔سرکاری حکام حیر بیار مری اور مہران مری پر عسکریت پسند تنظیموں چلانے کا الزام عائد کررہے ہیں جس کو وہ سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}