1500 افراد کا دھرنا، حکومت خاموش تماشائی کیوں؟

1500 افراد کا دھرنا، حکومت خاموش تماشائی کیوں؟

November 13, 2017 - 20:37
Posted in:

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ یہ جماعت وزیر برائے قانون زاہد حامد کے استعفے کے بغیر مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں۔دھرنے کی وجہ سے جس کے شرکا کی تعداد حکام نے 1500 سے دو ہزار بتائی ہے دونوں شہریوں کے لاکھوں افراد کے روزمرہ معمولات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی ٹیم کے رکن عنایت الحق نے کہا کہ وزیر قانون کے مستعفی ہونے کے بعد ہی دیگر مطالبات پر مذاکرات کریں گے۔ ' لوکل انتظامیہ نے ہم سے بارہا رابطہ کیا، ہمارا پہلا مطالبہ وزیر کے استعفے کا ہے، سیون سی اور بی کی پہلی حالت میں بحالی ہو، چاروں طرف اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر لگانے کی اجازت ملے، آسیہ بی بی کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کو تیزی سے چلایا جائے۔'

یہ بھی پڑھیے وزیر داخلہ کی امید پوری نہ ہو سکی، اسلام آباد میں دھرنا جاریسول سوسائٹی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں میں تصادم’احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے بچہ ہلاک ہوا‘عنایت الحق نے کہا کہ سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے انھیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے لیکن اپنے مطالبات منوانے کے لیے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو 12 ربیع الاول کو ملک بھر سے نکالے جانے والے جلوسوں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوجائے گا۔ حکومت اپنے وزیر کو عہدے سے کیوں نہیں ہٹا رہی؟

حکومت کے وزیر قانون نے ایوان میں خود آکر اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ نہ ان کی اور نہ ہی الیکشن ایکٹ کی تیاری میں شامل تمام جماعتوں کی ایسی کوئی کوشش تھی کہ وہ ختم نبوت کے حلف نامے میں کوئی ترمیم کرے۔ لیکن دھرنے کی طوالت اختیار کر جانے کے بعد وزیر قانون نے چند روز قبل ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنا وضاحتی بیان بھی دیا اور کہا کہ وہ مسلمان ہیں، عاشق رسول ہیں اور ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔اس وقت اگر آپ اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں پر جا کر کھڑے ہوں تو پریشان حال شہریوں، سامان سے لدے ہوئے ٹرکوں کے علاوہ جو سب سے اذیت ناک آواز ہو گی وہ ایمبولینس کے سائرن کی ہو گی جسے راستہ دینا شاید کسی کے بس میں نہیں نہ گاڑی چلانے والے کے اور نہ ہی باہر موجود ٹریفک وارڈن کے۔

راولپنڈی کے مکین کامران شیخ نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’معمول کے مطابق ساڑھے سات بجے گھر سے نکلتا ہوں اور آٹھ بجے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع اپنے دفتر میں پہنچ جاتا ہوں لیکن دھرنے کی وجہ سے مجھے تین روز آدھے راستے سے ہی واپس گھر لوٹنا پڑا اور دفتر سے غیر حاضری ہوئی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج جب میں نے ہمت پکڑ کر دفتر جانے کی کوشش کی تو مجھے ساڑھے تین سے پونے چار لگے۔ واپسی کے لیے میں نے متبادل روٹ استعمال کیا لیکن مجھے ایک بار پھر ٹریفک کے ازدہادم کا سامنا کرنا پڑا اور تقریباً تین گھنٹوں میں گھر پہنچا۔ کیا حکومت شہریوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔‘
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسلام آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے سے عوام مشکل میںیہ تو کہانی ہے اس شہری کی جو روز اپنی گاڑی پر سفر کر رہا ہے لیکن ایک بڑی تعداد ان شہریوں کی ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں اور انھیں ٹیکسی والوں کو منہ مانگے دام دے کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑتا ہے۔ پریشان حال شہریوں کا شکوہ ہے کہ حکومت آخر ان چند سو افراد کو دھرنے کے مقام سے پیچھے ہٹانے سے قاصر کیوں ہے۔حکومت دھرنے میں شامل جماعتوں کا وزیر قانون کو ہٹانے کے مطالبے کو ماننے سے انکاری ہے کیوں ہے اس کا جواب حکام تو دینے سے گریزاں ہیں تاہم تحریک لبیک کے رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر وزیر کو ہٹا دیا تو انھیں گستاخ رسول سمجھا جائے گا۔ تحریک لبیک کے رہنما کہتے ہیں کہ وہ وزیر قانون کو نااہل تو سمجھتے ہیں تاہم وہ 'ہم نے وفاقی وزیر پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ گستاخ رسول ہیں۔1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستانی آئین میں ترمیم ہوئی تھی اور ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس احتجاجی دھرنے نے ایک بار پھر دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کی یاد دلا دی ہے لیکن گذشتہ بار شہریوں کو آمدورفت کے لیے اتنی مشکلات کا سامنا نہیں تھا جس قدر اس بار ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}