’ہمارے بچے بھی یہاں آئیں گے تو سکون ملے گا‘

’ہمارے بچے بھی یہاں آئیں گے تو سکون ملے گا‘

March 14, 2018 - 19:42
Posted in:

محمد اکرم سنہ 1974 میں پہلی مرتبہ شام کے دارالحکومت دمشق گئے۔ 1980 میں پاکستان لوٹنے کے بعد آٹھ سال وہ یہاں رہے لیکن اس کے بعد وہ شام ہی کے ہو رہے اس وقت تک جب تک کہ جہازوں اور بموں نے ان کے گھر کا راستہ نہیں دیکھا تھا۔ بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی سے بات چیت میں انھوں نے اپنی رواداد سنائی۔حال ہی میں پاکستان لوٹنے والے محمد اکرم نے ایک شادی پاکستان میں کی اور ایک شام میں۔ ان کی شامی اہلیہ کا نام ربع تھا ان سے محمد اکرم کے چھ بچے تھے۔ تین بیٹے اور تین بیٹیاں۔ ان میں سب سے بڑا بیٹا ایمم تھا جس کی کنیت سے محمد اکرم کو مقامی طور پر پہچانا جاتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں ’ایک دن وہ بازار گیا، پتا نہیں وہاں کیا ہوا؟ کوئی فائرنگ ہوئی یا کچھ اور لیکن میرے سامنے اس کی لاش آئی۔‘انھوں نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا ’اس شام ایمبولینس آئی، وہ میرا نام پوچھ رہے تھے، میں نے سوچا کسی اور کے گھر آئی ہوگی۔ لیکن اس دن بدنصیب باپ میں تھا۔ میں اس کی لاش دیکھ کر برداشت نہیں کر سکا۔‘مزید پڑھیےغوطہ سے دو پاکستانی شہریوں کا انخلامشرقی غوطہ میں ’500 افراد ہلاک‘’اس کے چار بچے ہیں، اس کی بیوی بھی شامی ہے۔ اس واقعے کے بعد ہم بہت دلبرداشتہ ہیں۔ ایسا کبھی کسی کے ساتھ نہیں ہوا ہوگا۔ ہماری خوراک اور پانی بند کر دیا گیا تھا۔ ہم نے درختوں کے پتے اور گھاس کھا کر گزارا کیا۔ ہماری صحت بھی خراب ہوگئی۔‘وہاں تو جلانے کو لکڑی بھی نہیں تھی۔ جہاں باغات تھے وہاں سب ویرانہ تھا۔‘’شکر ہے کہ سفارتخانے کے ساتھ رابطہ ہونے پر حکومت نے ہمیں نکالنے کی کوشش کی۔ وہاں کی حکومت ہمیں نکلنے نہیں دے رہی تھی۔ لیکن پاکستان کے سفارتخانے نے ہمیں وہاں سے نکالنے کی سر توڑ کوشش کی۔‘

محمد اکرم کے دوسرے بیٹے کام نام احمد ہے اس کی اہلیہ بھی شامی خاتون ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں تین بیٹے اور ایک بیٹی۔ جبکہ تیسرے بیٹے محمود کی بیوی بھی شامی ہیں اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ محمد اکرم کی تینوں بیٹیاں یاسمین، صائمہ اور عالٰی تینوں وہیں مقامی لوگوں کے ساتھ بیاہی گئی ہیں۔ وہ بھی اپنے خاندانوں کے ہمراہ غوطہ میں محصور ہیں۔ محمد اکرام کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اور خاندان مصیبت میں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح حکومت پاکستان ان کی مدد کرے اور وہ انہیں کم از کم غوطہ سے نکال کر دمشق کے کسی محفوظ مقام تک پہنچا دیں۔ یا اگر حکومت چاہے تو انہیں شام سے باہر کسی محفوظ ملک تک بھی بھجوا دے۔ ہر دن جیسے آخری دن تھاجنگ کے دوران کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے محمد اکرام نے بتایا ’بم ہماری چھتوں کے اوپر سے گرزتے تھے۔ ہمارے گھروں میں بموں کے ٹکڑے آ کر گرے۔ ہر روز لگتا تھا یہی آج ہماری زندگی کا آخری دن تھا۔ ایک مرتبہ ہمارے محلے میں آٹھ بم گرے لیکن خوش قسمتی سے پھٹا کوئی نہیں۔‘ان کے بقول ’ہمارے ذہنوں سے جہازوں اور بموں کی آوازیں نہیں جا رہیں۔ موٹر سائیکل گزرے تو لگتا ہے جہاز آگیا۔ دروازہ زور سے بند ہو تو لگتا ہے کوئی بم پھٹ گیا۔ معلوم نہیں یہ سب ہمارے یادوں سے جائے گا بھی یا نہیں۔‘’ہمارا پورا محملہ ویران ہو گیا۔ کئی مارے گئے کئی لوگ علاقہ چھوڑ گئے۔ جب ہم وہاں سے نکلے تو ہمارے بچے رو رہے تھے۔ وہ بھی ہمارے ساتھ آنا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں آنے کی اجازت نہیں تھی۔‘آبدیدہ محمد اکرم نے بتایا ’سنہ 2013 سے خوراک اور پانی بند تھا ہم نے زندہ رہنے کے لیے گھاس کھایا۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھوک لگنے پر کھانا اور پانی مانگتے تھے۔ ‘محمد اکرم کی پاکستانی اہلیہ صغری بی بی کا کہنا تھا کہ ’وہ بچے تھے انہیں تو کھانا چاہیے تھا، وہ مانگتے تھے کہ خالہ جی، دادو جی کھانا دو۔ میں اب جب یہاں کچھ کھانے لگتی ہوں تو ان کی یاد آتی ہے۔‘وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے صبر سیکھ لیا۔ لیکن بیشتر لوگ جو صحت مند تھے وہ انتہائی دبلے ہوگئے ہیں۔صغری بی بی نے ہچکیوں سے روتے ہوئے اپنی روانگی کی گھڑی کو یاد کیا ’جب ہم آ رہے تھے تو بچے میرے پلو سے لپٹے تھے، کہہ رہے تھے دادا دادی آپ جا رہے ہیں؟ ہمیں یہاں بے بس چھوڑ کر جا رہے؟‘انھوں نے بتایا کے حملے میں مارے جانے والے تمم کے بیٹے نے کہا دادو آپ جا رہی ہیں ، آپ واپس نہیں آئیں گے؟ تو میں نے کہا ایسا مت کہو۔‘’وہ بچے یہاں آئیں گے تو سکون ملے گا، ورنہ ہماری زندگ کا کوئی فائدہ نہیں۔`محمد اکرم نے بتایا ’جس رات تیز بمباری ہوئی تو ہم وقتی پناہ کے لیے بیٹے کےگھر چلے گئے اس میں ہمارا گھر مکمل تباہ ہوگیا۔ جب واپس آ کر دیکھا تو کچھ نہیں بچا تھا۔‘انھوں نے بتایا کے لڑائی کے دوران ایک طرف حکومت کے گولے برساتے ٹینک تھے تو دوسری طرف مخالفین کے بم۔’ہم پھنس کر رہ گئے تھے۔ ہم تو صرف یہ جانتے تھے کہ بم گر رہے ہیں یہ نہیں پتا تھا کہ کون مار رہا ہے۔‘صغری بی بی بتاتی ہیں کہ ان کی آنکھوں میں محلے کے ننّھے شیر خوار بچوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں وہ ایک لمحے کے لیے بھی وہ سب نہیں بھولیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ وہ اور باقی بڑے تو بموں اور جہازوں سے خوفزدہ تھے لیکن بچوں کو نہ جہازوں سے ڈر لگتا تھا نہ بموں سے۔ وہ جہازوں کی آواز سنتے ہی باہر دوڑ جاتے۔ محمد اکرم نے بتایا نے وہ اپنے بچوں کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن وہ منتظر ہیں کہ کوئی ان کی مدد کر دے۔ ان کے بچوں کے پاس تو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں لیکن ان کی بیویاں شامی ہیں اس لیے ان کے پاکستان آنے کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستانی سفارتخانہ ان کی مدد کر سکے تو وہ وہاں سے نکل سکتے ہیں۔محمد اکرم کے خیال میں شام میں آنے والے غیر ملکیوں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے۔ ان کے بقول شامی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ یہ لوگ ملک کے حالات خراب کریں، لیکن وہ لوگ ملک میں گھس آئے تھے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}