’ہسپتال جو مجبوروں کے لیے پناہ گاہ تھا‘

’ہسپتال جو مجبوروں کے لیے پناہ گاہ تھا‘

September 22, 2017 - 05:51
Posted in:

میں نے طبیانِ بے سرحد یعنی ایم ایس ایف کے ساتھ پاکستان میں دو سال کام کیا اور اس دوران میں اپنا زیادہ تر وقت میں اسلام آباد، پشاور، ہنگو کرم ایجنسی اور فاٹا کے علاقے میں گزارتی تھی۔ میں نے کرم ایجنسی میں بچوں کے لیے قائم کردہ ایم ایس ایف کے ہسپتال میں کام کیا جو سیدا کے علاقے میں واقع ہے۔ اس مہینے حکومت نے یہ ہسپتال یہ کہہ کر بند کروا دیا کہ ایم ایس ایف کے پاس فاٹا کے علاقے میں کام کرنے کا اجازت نامہ نہیں ہے۔کرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوفدس سال میں کرم ایجنسی میں کیا بدلا؟مقامی صحافیوں کی بات سنیں تو وہ بتاتے ہیں کہ ایم ایس ایف پر الزام ہے کہ اس نے ڈرون حملے کے زخمیوں کا علاج کیا اور یہ کہ ہسپتال امریکی حکام کے لیے جاسوسی کر رہا تھا جس کے نتیجے میں اس علاقے کے قریب ہی ایک ڈرون حملہ کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ایسی کسی بات کا تذکرہ ریکارڈ پر نہیں تو یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ میرے ایم ایس ایف کے ساتھی ریکارڈ پر اس حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں جس کا سادہ مطلب میں یہ سمجھتی ہوں کہ انھیں یا تو خوف ہے یا پتا نہیں ہے۔ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ جو میں جانتی ہوں وہ یہ ہے کہ یہ ہسپتال بچوں اور ان کے خاندان والوں کے دکھ اور تکالیف سے بچنے کے لیے ایک پناہ گاہ تھی۔ لاچار اور مجبور لوگ جن کے پاس اور کوئی جگہ نہیں جہاں وہ جا سکیں وہ یہاں اپنے بچوں کو علاج کے لیے لاتے تھے۔

مجھے اس علاقے بلکہ پورے خطے کے باسیوں کے احساسِ محرومی کا دکھ ہے جن سے ایک اہم سہولت چھین لی گئی ہے۔ ان کے لیے زندگی اس ہسپتال کے بغیر مزید مشکل ہو جائے کیونکہ یہ ہسپتال صرف ایک عمارت یا سہولت نہیں تھی بلکہ زندگی کے لیے ایک امید بھی تھی۔ جاسوسی کے الزامات یا دوسری باتیں ثابت ہوں گی یا نہیں مگر اپنے عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم کرنا بذاتِ خود بڑی نا انصافی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}