’کیا ملکی سالمیت کی مخالف جماعت رجسٹر کی جا سکتی ہے‘

’کیا ملکی سالمیت کی مخالف جماعت رجسٹر کی جا سکتی ہے‘

October 12, 2018 - 10:33
Posted in:

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہینِ رسالت کے مقدمے میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک نے اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں جمعے کو مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ادھر سپریم کورٹ نے ہی فیض آباد دھرنا کیس میں الیکشن کمیشن سے تحریکِ لبیک کی رجسٹریشن کی دستاویزات بھی طلب کر لی ہیں۔عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے آٹھ اکتوبر کو آسیہ بی بی کیس میں فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد اس جماعت نے خبردار کیا تھا کہ اگر اپیل منظور کی گئی تو ایسا کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں جماعت کے رہنما محمد افضل قادری نے کہا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کی سزا کو ختم کر کے انھیں رہا کیا جاتا ہے تو وہ جج صاحبان اور دیگر ذمہ داران کے خلاف راست اقدام کریں گے اور اس سلسلے میں ملگ گیر احتجاج بھی ہو گا اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی اپیل کا محفوظ فیصلہ تو تاحال نہیں سنایا گیا تاہم تحریکِ لبیک نے 12 اکتوبر کو جمعے کی نماز کے بعد مظاہروں کی کال دے دی ہے۔ جماعت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک کے مختلف شہروں میں ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ مرکزی ریلی دن تین بجے لاہور میں داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک جائے گی۔گذشتہ روز ہی سپریم کورٹ نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد پر اسی مذہبی جماعت کی طرف سے چند ماہ قبل دھرنا دینے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے جماعت کی رجسٹریشن کے بارے میں دستاویز طلب کی تھیں۔خادم حسین کون ہیں’ایک دن ماں ضرور گھر آئے گی‘ آسیہ کیس: تضادات پر جرح کیوں نہ کی؟ عدالت کا سوال نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا ایسی جماعت کو الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کیا جاسکتا ہے جو ملک کی سالمیت کے خلاف ہو یا ملک کو کمزور کرے۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اگر القاعدہ کے ارکان بطور سیاسی جماعت بنانے کے لیے درخواست دیں تو کیا اسے اجازت دی جائے گی؟اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر ایک سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے لیکن فیض آباد پر دھرنا دینے والی سیاسی جماعت کا طریقۂ کار غلط تھا جس کی وجہ سے یہ دھرنا غیر قانونی تھا۔بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ تحریک لبیک کو الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت کب رجسٹرڈ کیا گیا تھا جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس جماعت کو فیض آباد پر دھرنا دینے سے کچھ ہفتے قبل رجسٹر کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن ایسی جماعت کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی جاسکتی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی کسی عمارت پر قبضہ کرلے گا اور کہے گا کہ احتجاج اس کا جمہوری حق ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان خوف کے لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ ایک نظریے کے تحت بنایا گیا تھا۔جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ عدالت یہ مقدمہ اس لیے سن رہی ہے تاکہ واقعات سے کچھ سبق سیکھا جاسکے اس کے علاوہ مستقبل کے لیے گائیڈ لائنز بھی مرتب کرے گی۔وزارت دفاع نے سماعت کے دوران دھرنے پر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے کاروائی کے دوران جو سوالات اٹھائے ان کے جوابات رپورٹ میں دیے گیے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ گزشتہ سماعتوں کے دوران فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی طرف سے دھرنے سے متعلق رپورٹس مسترد کر چکی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}