’کونسی طاقتیں ان تنظیموں کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں؟‘

’کونسی طاقتیں ان تنظیموں کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں؟‘

September 27, 2017 - 17:40
Posted in:

پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی سیاسی جماعت 'ملی مسلم لیگ' کی رجسٹریشن کی مخالفت کیے جانے کے بعد یہ بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ گئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں ایسے دو امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دی جن کے مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلقات رہ چکے ہیں۔اس ضمنی انتخاب میں تحریکِ لبیک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا اور پیپلز پارٹی اور جماعتِ اسلامی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔٭ ’2018 میں مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘٭ ’ملی مسلم لیگ حافظ سعید کے وژن پر بنی ہے‘٭ مذہبی جماعت کی سیاسی جماعت اور آزاد امیدوارملی مسلم لیگ نے اس الیکشن سے قبل ہی الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کے لیے درخواست دی تھی جس پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے وزارت داخلہ سے رپورٹ بھی طلب کی تھی۔وزارت داخلہ نے اب اس بارے میں تحریری طور پر رائے دی ہے کہ چونکہ ملی مسلم لیگ کا تعلق کالعدم گروپوں سے رہا ہے اس لیے اسے بطور سیاسی جماعت رجسٹر نہ کیا جائے۔وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اس جماعت کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں اور جن کالعدم جماعتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت شامل ہیں۔لشکر طیبہ کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2002 میں کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جبکہ فلاح انسانیت اور جماعت الدعوۃ پر سنہ 2017 میں پابندی عائد کی گئی ہے۔وزارت داخلہ کی طرف سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں ملی مسلم لیگ کے سربراہ سیف اللہ خالد کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ حافظ سعید ان کی جماعت کے علاوہ مذکورہ کالعدم گروپوں کے بھی نظریاتی لیڈر ہیں۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سنہ 2002 میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے کاعذات نامزدگی محض اس بنیاد پر مسترد کیے گئے کہ اُنھوں نے اپنے خلاف درج ہونے والے مقدمات کا سامنا نہیں کیا اور بیرون ملک چلی گئیں جبکہ اب کالعدم تنظیموں سے وابستگی رکھنے والے افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جا رہی ہے۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ارکان پارلیمان نے الیکشن کمیشن سے اس ضمن میں وضاحت طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔عوامی نیشل پارٹی کے رہنما زاہد خان کہتے ہیں کہ اگر شدت پسند تنظیموں کو سیاسی دھارے میں لانے کی روش کو تبدیل نہ کیا گیا تو دنیا بھر کے ممالک کی طرف سے پاکستان پر شدت پسندی کو فروغ دینے کے الزامات کو تقویت ملے گی۔اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات میں شدت پسند کالعدم تنظیموں کی طرف سے ان کی جماعت کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی انتخابی مہم چلانے پر دھمکیاں دی گئی تھیں جس کی وجہ سے یہ جماعتیں اپنی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے نہ چلا سکیں۔خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی ایسی مذہبی جماعتوں کی جانب سے مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جن پر فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم یہ کوشش بڑی حد تک ناکام رہی ہے

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}