’کرکٹرز عہدے لینے کے لیے بنی گالہ نہیں جا رہے‘

’کرکٹرز عہدے لینے کے لیے بنی گالہ نہیں جا رہے‘

August 03, 2018 - 18:11
Posted in:

@InsafPK کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Waqar Younis called on 'Skipper' at Banigala congratulating him on the victory in general elections 2018.@waqyounis99 @ImranKhanPTI #GE18 #PrimeMinisterImranKhan pic.twitter.com/rnDVrIwSq0 Tehreek-e-Insaf (@InsafPK) جولائی 31, 2018

@InsafPK کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی عام انتخابات میں کامیابی پر کرکٹرز سب سے زیادہ خوش ہیں جس کا اندازہ ان تصاویر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں سابق اور موجودہ کرکٹرز بنی گالہ میں عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ ان کرکٹرز میں سابق فاسٹ بولر وقار یونس بھی شامل ہیں جو عمران خان سے ملنے سڈنی سے پاکستان آئے۔وقار یونس کا عمران خان سے ایک خاص تعلق اس لیے بھی بنتا ہے کہ جب وقاریونس نے اپنے بین الاقوامی کریئر کی ابتدا کی تھی تو ان کے پہلے کپتان عمران خان ہی تھے۔یہ بھی پڑھیےعمران خان کا سفر44 سال کا سفر: پہلی وکٹ سے پہلی بار وزیراعظم بننے کا سفردنیا کا سب سے ’ہینڈسم‘ وزیرِ اعظم کون؟کئی دیگر کرکٹرز کی طرح وقار یونس بھی عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں تاہم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس بات کا بھی گلہ کیا کہ کچھ حلقے کرکٹرز کے بنی گالہ جانے کو منفی تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کرکٹرز اس لیے بنی گالہ جارہے ہیں کہ انھیں عہدوں کی ضرورت ہے اور وہ عمران خان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کرکٹرز کو عہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب عمران خان کے ساتھ کھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ہمارے کپتان اور استاد رہ چکے ہیں، ان سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اسی ناطے یہ ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم ان سے ملاقات کر کے انھیں ان کی کامیابی پر مبارک باد دیں۔‘ وقار یونس کو یقین ہے کہ عمران خان کرکٹ کی طرح ملک کی قیادت بھی کامیابی کے ساتھ سنبھالتے ہوئے اسے مشکلات سے نکالیں گے۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے کرکٹ میں کبھی بھی ہار نہیں مانی اور نہ ہی وہ سیاست میں حوصلہ ہارے ہیں۔ جب وہ کرکٹ میں تھے تو انہوں نے اپنی محنت اور حوصلہ مندی سے خود کو ایک کامیاب آل راؤنڈر اور کپتان ثابت کیا اور اب وہ سیاست میں خود کو ایک ایماندار لیڈر کے طور پر ثابت کرچکے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت ملک میں کرپشن ہے۔ ہم قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں۔ صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور کئی دوسرے مسائل موجود ہیں۔ اس صورتحال میں ہمیں ایک سچے اور ایماندار لیڈر کی ضرورت ہے اور عمران خان سے زیادہ بہتر شخص اور کوئی نظر نہیں آتا۔ مسائل حل ہونے میں وقت لگے گا لیکن مجھے امید ہے کہ عمران خان کی لیڈرشپ ملک کو ترقی کی طرف لے جائے گی۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}