’کابل میں انڈیا کی دلچسپی سے پاک افغان تعلقات متاثر نہیں‘

’کابل میں انڈیا کی دلچسپی سے پاک افغان تعلقات متاثر نہیں‘

September 23, 2017 - 21:46
Posted in:

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل عبدالوحید پوہان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے پاک افغان تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی ترقی میں حصہ لینے والے تمام ممالک کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات رکھنا افغانستان کا حق ہے۔ پاک افغان کشیدگی پر چین کو تشویش افغانستان میں کلچر ڈے کی مناسبت سے پریس کلب پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل نے کہا کہ افعانستان کے پڑوس میں دیگر ممالک بھی ہیں جیسے تاجکستان ازبکستان اور ترکمانستان لیکن پاکستان اور اس کے لوگوں سے عشروں پر محیط ان کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔ یہ تقریب ایک غیر سرکاری ادارے ریجنل فورم فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ نے ترتیب دی تھی جس میں محفل مشاعرہ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق عبدالوحید پوہان نے کہا کہ افغانستان ان تمام ممالک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو افغانستان کی ترقی میں حصہ لے رہے ہیں ان میں بھارت بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاک افغان تعلقات کا ذکر ہوتا ہے تو اس وقت بھارت پر الزام عائد کیا جاتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'غیر یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں تباہی ہو اور ایسے بہت سے مسائل ہیں جو ہمارے ممالک کو درپیش ہیں، ہمارے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور اسے ہم نے نہیں بجھانا ہے آؤ ہم اور آپ اس مسئلے کو حل کریں، ہم مزید سیاستدانوں کا انتظار نہ کریں بلکہ خود ایک دوسرے کا ہا تھ تھام لیں ۔'انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی اپنی اپنی خارجہ پالیسیاں اور دیگر ممالک سے سفارتی تعلقات ہیں لیکن اس سے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات پر اثر نہیں پڑ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چالس سل تک جنگ سے افغانستان کے تمام ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور اب ان اداروں کی بحالی کے لیے افغانستان کی کوششیں جاری ہیں اور ان کوششوں میں مدد کرنے والے تمام ممالک ان کے دوست ہیں۔ پوہان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور سرحد کے دنوں جانب بسنے والے پختون عوام ہیں اور دونوں ممالک کی عوام کا رشتہ برادرانہ ہے جسے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}