’پھر ہم نے رقص کیا اور کہانی یہیں سے شروع ہوئی‘

’پھر ہم نے رقص کیا اور کہانی یہیں سے شروع ہوئی‘

September 21, 2017 - 13:15
Posted in:

کینیڈا کے ایک سابق فوجی اور ان کی برطانوی اہلیہ 75 برس تک ایک ساتھ شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے ایک ہی دن ساتھ ساتھ رخصت ہوئے۔جمعرات کو کینیڈا کے ایک ہسپتال میں ان دونوں کا انتقال ہوا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کے انتقال میں صرف 5 گھنٹوں کا فرق تھا۔ انھوں نے حال ہی میں شادی کی 75 ویں سالگرہ کا جشن منایا تھا۔ اس جوڑے نے دوسری جنگ عظیم کے دوران شادی کی تھی۔ ان کی پہلی ملاقات 1941 میں لندن کے پاس ایک ڈانس ہال میں ہوئی تھی۔ 94 سالہ جین سپیئر کو نیومونیا کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ایک دن بعد ان کے 95 سالہ شوہر جارج سپیئیر کو بھی ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ ہسپتال کا عملہ جارج سپیئر کو بھی اسی منزل پر منتقل کرنے کی تیاری کر رہا تھا جہاں ان کی بیوی کا علاج چل رہا تھا لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی جین صبح چار بجے چل بسیں۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ان کے شوہر جارج نے بھی آخری سانس لی۔

جین نے جنگ سے متاثرہ فوجیوں کی بیویوں کے لیے کافی فلاحی کام کیے تھے اس لیے 2006 میں ملکہ برطانیہ نے انھیں 'آرڈر آف دی برٹش امپائر' کی رکنیت دے کر اعزاز سے نوازا تھا۔اس تقریب میں شرکت کے لیے وہ اپنے شوہر جارج کے ساتھ لندن آئی تھیں۔ محترمہ سپیئر نے جنگ میں متاثر ہونے والے فوجیوں کی بیویوں کے لیے کینیڈا میں پہلا کلب قائم کیا تھا۔ چونکہ بہت سی برطانوی خواتین نے کینیڈین فوجیوں سے شادی کر لی تھی اس لیے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد تقریباً 50 ہزار برطانوی خواتین کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔2011 میں برطانوی شہزادے ولیم نے شہزادی کیتھرین سے شادی کرنے کے بعد جب کینیڈا کیا دورہ کیا تھا تو ان کے استقبالیے میں اس جوڑے کو بھی ذاتی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ جارج سپیئیر نے شہزادی کیتھرین کو اپنی سارجنٹ والی کیپ دکھائی تھی جس میں جین کی شادی سے پہلے والی ایک تصویر تھی۔ شہزادی کیتھرین نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے ہمیشہ اس تصویر کو اپنے ساتھ رکھا ہے تو اس پر جارج کا جواب تھا: 'جی ہاں، جنگ کے دوران اور پھر اس کے بعد سے آج تک۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}