’پولیس اہلکار اپنی چوکیوں میں محصور ہو گئے تھے‘

’پولیس اہلکار اپنی چوکیوں میں محصور ہو گئے تھے‘

April 14, 2018 - 05:39
Posted in:

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے سدرن ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شوکت علی کے لیے کچھ عرصہ پہلے تک اپنے دفتر سے نکل کر قبائلی علاقے کی سرحد پر واقع پولیس چوکیوں تک جانا حقیقتاً جان کی بازی لگانے کے مترادف تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پشاور شہر ہر طرف سے دہشت گرد حملوں کی زد میں تھا۔ شہر سے متصل قبائلی علاقوں میں پولیس کی عمل داری ختم ہو گئی تھی اور دن میں بھی یہ جگہیں علاقہ ممنوع بن چکی تھیں۔شوکت علی کا کہنا ہے کہ ان دنوں کو یاد کر کے اب بھی خوف کی کفیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق وہ ایسے حالات تھے کہ پولیس اہلکار اپنی چوکیوں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ سرحدی مقامات پر واقع چوکیوں پر جب بھی دہشت گرد حملہ کرتے تو اس وقت کمک دینے کے لیے دیگر تھانوں سے کوئی نہیں جا سکتا تھا کیونکہ راستوں میں حملہ آور گھات لگائے بیٹھے ہوتے تھے اور جو مدد کےلیے آتا ان کو نشانہ بنایا جاتا۔ یہ بھی پڑھیںپولیس اور فوج پر حملے، سات اہلکاروں سمیت آٹھ ہلاکپشاور، مہمند میں خودکش حملے: اہلکاروں سمیت چھ ہلاکمہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کا حملہ، دو ایف سی اہلکار ہلاک پولیس افسر کے مطابق 'ہم نے ان واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام سرحدی چوکیوں پر واضح کردیا تھا کہ حملے کی صورت میں کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں آ سکے گا لہذا پولیس اہلکار بھی یہ بات سمجھ گئے تھے کہ یا تو انھیں شدت پسندوں کو شکست دینی ہے یا پھر مرنا ہے۔‘

پشاور پولیس کے سربراہ محمد طاہر خان کا کہنا ہے کہ ان قلعہ نما چوکیوں کی تعمیر کا بنیادی مقصد دور افتادہ مقامات پر پولیس کی رسائی کو بہتر بنانا اور پورے علاقے پر نظر رکھنا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ شہر میں حالات کافی حد تک بہتر ہو گئے ہیں تو کیا ایسے میں ان چوکیوں کی کوئی ضرورت تھی؟ پولیس سربراہ نے کہا ’پشاور اور خطے کے ارد گرد کے حالات کے تناظر میں ہمارے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ہم ایک ایسا مضبوط نظام بنائیں جس کے تحت ہم باآسانی اپنا دفاع کرسکیں ۔'انھوں نے کہا کہ ان چوکیوں کی بیرونی دیواروں کی موٹائی تقربناً 30 انچ پر مشتمل ہے جس پر بم یا بارودی مواد اثر نہیں کرتا ہے۔ان کے مطابق ان چوکیوں کے قیام سے نہ صرف پولیس فورس میں احساس تحفظ بڑھا ہے بلکہ اردگرد رہنے والے افراد بھی اب خود کو نسبتاً زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔ محمد طاہر کے بقول صوبے میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران تقربناً 1500 پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جس میں تقربناً 500 اہلکار صرف پشاور میں ہلاک ہوئے۔حالات کی بہتری کے ساتھ پشاور شہر کی پہلی دفاعی لائن اب نہ صرف بحال کی جا چکی ہے بلکہ حکام نے اسے مضبوط بھی اس امید پر بنایا ہے کہ مستقبل میں یہ چوکیاں پولیس کی عمل داری برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}