’پتہ نہیں کس میڈل کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس ملے گا‘

’پتہ نہیں کس میڈل کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس ملے گا‘

April 16, 2018 - 14:05
Posted in:

اکیسویں کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا واحد گولڈ میڈل جیتنے والے پہلوان انعام بٹ اپنے اس طلائی تمغے کو چار سال قبل ہونے والی مایوسی کا ازالہ سمجھتے ہیں جب گلاسگو میں پاکستان ایک بھی طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا اور وہ خود گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے۔انعام بٹ بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ یہ طلائی تمغہ جیتنا ان کے لیے بہت ضروری تھا۔’میں جب گولڈ کوسٹ پہنچا تھا تو صرف اور صرف گولڈ میڈل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں ہر قیمت پر گولڈ میڈل جیتنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گذشتہ کامن ویلتھ گیمز کے ریسلنگ مقابلوں میں جب بھارت کا ترانہ بجا تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ ہمارا قومی پرچم اور قومی ترانہ کیوں نہیں؟''میں گلاسگو میں گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہوگیا تھا اور ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ میں چھ ماہ تک ریسلنگ نہیں کرسکتا اس کے باوجود میں نے ایک ٹانگ پر مقابلے کیے اور تین فائٹس جیتیں لیکن کانسی کے تمغے کے لیے ہونے والی فائٹ چھ چھ پوائنٹس سے برابر ہونے کے بعد ٹیکنیکل بنیاد پر ہارا تھا۔'انعام بٹ کہتے ہیں کہ اس بار کامن ویلتھ گیمز سے قبل میں نے حکومت سے ٹریننگ کے لیے مالی مدد کی جو اپیل کی تھی اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔’میری ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں میں نےحکومت سے کہا تھا کہ وہ مجھے کامن ویلتھ گیمز کی ٹریننگ کے لیے دس لاکھ روپے دے اور اگر میں تمغہ نہ جیت سکوں تو میں یہ رقم واپس کردوں گا لیکن میری اس اپیل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور مجھے ٹریننگ کے لیے پاکستان ریسلنگ فیڈریشن اور اپنی مدد آپ پر ہی بھروسہ کرنا پڑا۔'

انعام بٹ پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے موجودہ سیکریٹری ارشد ستار کے بہت معترف ہیں جو بقول ان کے ریسلنگ کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔'چار سال قبل جب ارشد ستار نے فیڈریشن کے سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا اس وقت پورے پاکستان میں صرف آٹھ میٹ تھے لیکن آج ان کی کوششوں سے ان ریسلنگ میٹ کی تعداد تیس سے زیادہ ہوچکی ہے۔انعام بٹ کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈل کو زیادہ دیر سوچنا نہیں چاہتے کیونکہ ان کی توجہ اگلے ہدف پر ہے۔'جب آپ کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو آپ کا وہ کام ختم ہوجاتا ہے اور آپ کو اپنے اگلے ہدف کے بارے میں سوچنا شروع کرنا پڑتا ہے۔ میں نے یہ گولڈ میڈل جیت لیا اب میری ٹریننگ اگلے مقابلے کے لیے شروع ہوجائے گی کیونکہ وسائل کتنے ہی محدود ہوں اور حکومت مدد کرے یا نہ کرے مجھے اپنی محنت جاری رکھنی ہے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}