’پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے‘

’پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے‘

January 13, 2018 - 13:53
Posted in:

حفاظتی بیرئیر کراس کر کے گلی کے داخلی راستے پر وردی میں مبلوس چار پولیس اہلکار اسلحہ ہاتھوں میں لیے چوکس کھڑے تھے۔ساتھ میں ان پولیس اہلکاروں کا کمرہ بھی تھی جہاں پر وہ رات کے وقت ڈیوٹی بدل کر جاتے تھے جبکہ باقی رات کے وقت ڈیوٹی پر مامور ہوجاتے تھے۔اسی کمرے کے سامنے دو نوجوان موبائل پر ایک ساتھ ہندی گانے اونچے آواز میں سن رہے تھے جبکہ ساتھ ہی گردوارے میں چند لوگ عبادت میں مصروف تھے۔محلے میں تقریباً جتنے بھی لوگ نظر آرہے تھے ان سب نے سر پر رنگارنگ پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ پولیس اہلکار نے مجھے اجنبی سمجھ کر پو چھا: ’بھائی کون ہو اور کس سے ملنا ہے۔‘ جواب میں بتایا صحافی ہوں اور گورپال سنگھ نامی شخص سے ملنا ہے۔ جلد ہی ساتھ کھڑے ایک بابا جن کی داڑھی میں سفید بال نظر آرہے تھے ایک بچے کو آواز دے کر کہا۔ ’جلدی جاؤ گورپال بابا کو کہو ان کا مہمان آیا ہے۔‘یہ منظرخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ڈبگری گارڈن کے اندر سکھوں کا محلہ جوگن شاہ کا ہے جہاں پر 600 سے زائد سکھ گھرانے پچھلے تقریباً 33 سالوں سے آباد ہیں۔یہ ان میں سے بیشتر سکھ گھرانے دہشت گردی کے پیش نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں خیبر اور کرم ایجنسی سے نقل مکانی کر کے آباد ہوئے ہیں لیکن محلے میں جتنے بھی گھر اور زمینیں ہیں یہ ان سکھوں کی ذاتی ملکیت ہے۔27 سالہ گورپال سنگھ سکھوں کے حقوق کے لیے عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں اور اسی علاقے میں لوگ انھیں بہت قدر کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔یہ نوجوان اسی محلے میں سکھوں کے بچوں کے لیے واحد سکول کے ڈائریکٹر بھی ہیں جس میں 300 سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

گورپال کا ایک بھائی سال 2014 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں اپنے کلینک میں ٹارگٹ کلنگ میں مارا گیا تھا۔ بھائی کے ہلاکت کے بارے میں گورپال کا کہنا تھا کہ دہشت گردی نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا ہے لیکن ان کا کہنا تھا اسے امید ہے کہ جلد آپ کو جو پولیس اس محلے کے داخلی راستے پر نظر آرہے ہیں ان کو ڈیوٹی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔پشاور میں اب تک کم ازکم پانچ سکھ افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ گوپرال کا کہنا تھا ان کی قربانیوں کے بدولت اس ملک کے بچوں کو کم از کم یہ پڑھانا چاہیے کہ سکھ اس ملک باشندے ہیں نہ کہ ہندوستانی۔آخر میں پولیس اہلکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گورپال نے کہا کہ ’یہ پولیس جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ اس لئے نہیں کھڑے ہیں کہ اسی محلے میں جرائم پیشہ لوگ رہتے ہیں۔‘’سکھوں کی امن پسندی اس سے اچھی کیا مثال ہوسکتی ہے کہ اسی محلے کے حدود میں تین تھانے موجود ہیں جہاں پر گذشتہ 33 سالوں میں کسی سکھ پر بھی جرم کا مقدمہ درج نہیں ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}