’پاکستان پر سفارتی دباؤ میں یقیناً اضافہ ہوگا‘

’پاکستان پر سفارتی دباؤ میں یقیناً اضافہ ہوگا‘

November 23, 2017 - 20:03
Posted in:

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں جنوری سے نظربند جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید جمعرات کی رات 12 بجے کے بعد آزاد شہری ہوں گے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک نظر ثانی بنچ نے بدھ کو ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ گذشتہ ماہ حکومت پاکستان نے حافظ سعید کی نظر بندی میں 90 دن اضافے کے لیے عدالت کو ایک درخواست دی تھی تاہم عدالت نے حکومت سے ان کے خلاف ثبوت مانگے تھے۔ اور حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے حافظ سعید کی نظربندی میں صرف ایک مہینے کا اضافہ کیا تھا۔ یہ مدت جمعرات کی رات 12 بجے ختم ہوجائے گی۔ یہ بھی پڑھیےحافظ سعید کا بوجھ’حافظ سعید جیسے عناصر بوجھ ہیں، جان چھڑانے کے لیے وقت چاہیے‘پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانا قبول نہیں: خواجہ آصفبدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران حکومت کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی جس کے بعد عدالت نے حافظ سعید کی نظربندی کو مزید بڑھانے کی حکومتی درخواست کو رد کردیا تھا۔ پاکستان میں الیکڑانک میڈیا اور اخبارات میں حافظ سعید کی رہائی سے متعلق خبر کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ اس کی بڑی وجہ اس معاملے میں پاکستان کے عوام کی کم دلچسپی ہے۔ لیکن بہت سے تجزیہ کار اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ مسلح تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے ایاز گل کہتے ہیں کہ ’یہ عدالت کا فیصلہ ہے۔ یا تو ہم یہ سمجھ لیں کہ عدالتیں حکومت کے زیر سایہ ہیں اور وہ کوئی آزاد فیصلے نہیں دیتیں یا پھر یہ مان لیں کہ وہ آزاد ہیں اور کسی کو بھی قید رکھنے کے لیے ٹھوس جواز کی تلاش میں ہوتی ہیں اور انھیں اس مقدمے میں کوئی ٹھوس جواز نہیں ملا‘۔ ایاز گل یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’ماضی میں پاکستان کا ریکارڈ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے حوالے سے بہت اچھا نہیں رہا اس لیے پاکستان کے بارے میں عالمی رائے ہمیشہ متاثر ہوتی ہے اور ایسے فیصلوں کو منفی انداز میں ہی لیا جاتا ہے‘۔سینئر صحافی امتیاز عالم کہتے ہیں کہ حافظ سعید کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند کیا گیا تھا اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کے تحت کسی کو زیادہ دیر تک بند نہیں رکھا جاسکتا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس پیشرفت سے پاکستان پر سفارتی دباؤ میں یقیناً اضافہ ہوگا۔ ’اس پر برِکس اجلاس کا اعلامیہ بھی ہے اور امریکہ بھی دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔ پر پاکستان کا بھی تو مخمصہ ہے۔ کہ یہ اتنی بڑی تنظیم ہے۔ اس کی کایا پلٹ کیسے کی جائے۔ لیکن ظاہر ہے باہر کے لوگ تو یہ بات نہیں سمجھتے‘۔ کچھ مبصرین اس پیشرفت کو امریکی کانگریس کی جانب سے نیشنل ڈیفنس آرتھرآئیزیشن ایکٹ 2018 میں اس شق کے نکالے جانے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جس کے تحت پاکستان کو مالی امداد دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے اس بات کی تحریری یقین دہانی ضروری تھی کہ پاکستان لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک دونوں کے خلاف بامعنی اقدامات کر رہا ہے۔اب اس شق میں صرف حقانی نیٹ ورک کا نام شامل ہے۔ جس سے بظاہر لگتا ہے کہ اب واشنگٹن اپنی تمام تر توجہ افغانستان پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہاں پر شدت پسندوں کی کارروائیوں کو روکا جاسکے۔ ایاز گل کا خیال ہے کہ اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’حال ہی میں امریکہ نے جس انداز میں لشکر طیبہ کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی سرٹیفکیشن سے الگ کرلیا ہے اس سے ایک اشارہ یہ ملتا ہے کہ امریکہ نے بھی یہ احساس کرلیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ چند برسوں میں جس طرح بھارت کے بیانیے کو بھی پاکستان کے ساتھ اپنی پالیسی میں شامل کرلیا تھا، اب وہ ایسا نہیں کرے گا۔‘لیکن ڈان کے صحافی سِرل المیڈا اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایک برطانوی اخبار میں چھپنے والے ایک تجزیے میں ان کا کہنا تھا کہ ’نظربندی جیسے عارضی اقدامات سے کچھ وقت تو لیا جاسکتا ہے اور حتمی حساب کتاب میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے لیکن لشکر طیبہ جیسے گروہوں کے معاملے میں امریکہ اور پاکستان تصادم کے راستے پر جارہے ہیں‘۔پاک بھارت تعلق پر اثراتامتیاز عالم کہتے ہیں ’ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات تو پہلے ہی خراب ہیں۔ اچھے تعلقات کی توقع ابھی کی نہیں جاسکتی۔ لائن آف کنٹرول گرم ہے اور پاکستان اور بھارت دونوں الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تعلقات میں اس سے زیادہ کیا بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے‘۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}