’نیشنل جیوگرافک کی کوریج نسل پرستانہ تھی‘

’نیشنل جیوگرافک کی کوریج نسل پرستانہ تھی‘

March 13, 2018 - 18:17
Posted in:

امریکہ کے مشہور رسالے نیشنل جیو گرافک کا کہنا ہے کہ ماضی میں دنیا بھر سے لوگوں کی کوریج نسل پرستی پر مبنی تھی۔ نیشنل جیوگرافک کے مدیر سوزن گولڈبرگ نے کہا ’ہماری کوریج نے ان امریکیوں کو نظر انداز کیا جو سفید فام نہیں تھے اور مختلف گروہوں کو بدیسی یا جنگلی کے طور پر دکھایا اور ان کو ہر طرح سے گھسے پٹے طریقے سے پیش کیا۔‘سبز آنکھوں والی شربت گلہ نئی زندگی کی تلاش میںتصاویر: طائرانہ نگاہ سے’افغان جنگ کی مونا لیزا‘ جعلی شناختی کارڈ پر گرفتاررسالے کا اپریل کا شمارہ نسل پر وقف کیا گیا ہے اور ایک تاریخ دان سے کہا گیا ہے کہ وہ پرانے شماروں پر نظر ڈالیں۔ رسالے نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کے 50 سال ہونے پر شائع ہونے والے شمارے پر نظر ثانی کریں۔

انھوں نے 1962 میں جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز کے زمانے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا موازنہ 1977 میں دوسرے مضمون سے کیا۔ پہلے مضمون میں کسی قسم کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا گیا اور دوسرے میں سیاہ فام رہنماؤں کی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ذکر کیا گیا۔ ’دوسرا مضمون بھی درست نہیں تھا لیکم اس میں جبر کو تسلیم کیا گیا۔‘تاہم پروفیسر میسن نے ماضی میں رسالے کے اچھے کام کو بھی تسلیم کیا۔ ’یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ میگزین ایک وقت میں لوگوں کی آنکھیں کھول بھی سکتا ہے اور بند بھی کر سکتا ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}