’مجھے لگتا ہے ہم سب ذہنی بیمار ہیں‘

’مجھے لگتا ہے ہم سب ذہنی بیمار ہیں‘

September 22, 2017 - 06:21
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape no-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="فٹبال" src="https://ichef-1.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/AC85/production/_97956144_..." style="width=100%; max-width=640;" /span

/figurep class="story-body__introduction"انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی لڑکیاں فٹ بال کے لیے سماجی قدغنوں اور سرکاری بے مروتی کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔/ppنادیہ سات سال سے کشمیری خواتین کی فٹ بال ٹیم تشکیل دینے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنی سہیلیوں، ہم جماعت لڑکیوں اور کھیل کود کی شوقین طالبات کے ساتھ برسوں رابطوں کے بعد 15 سے 18 سال کی عمر کے درمیان 11 لڑکیوں کی ٹیم بنا لی ہے۔ /ppوادی میں کھیل کے سب سے بڑے میدان بخشی سٹیڈیم میں نادیہ ان لڑکیوں کو ہر شام فٹ بال کے گر سکھا رہی ہیں۔ ’یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایک جانب سماج ہے جو ہمیں گمراہ سمجھتا ہے، دوسری جانب حکومت ہے جو ہمیں سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔ لیکن ہم نے طے کر لیا ہے کہ کشمیری لڑکیوں کی فٹ بال ٹیم بن کے رہے گی۔'/ppa href="http://www.bbc.com/urdu/sport-39037134" class="story-body__link"برف پر رگبی کھیلتی کشمیری لڑکیاں/a/ppa href="http://www.bbc.com/urdu/sport-39776136" class="story-body__link"کشمیر کی روبیہ دھونی کی طرح کھیلنا چاہتی ہیں/a/ppٹیم کی ایک کھلاڑی سید ایمن کہتی ہیں 'میرے والدین نے مجھے کھیلنے کی اجازت تو دی ہے لیکن وہ بھی کبھی کبھی لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ ہم وردی پہن کر نکلیں تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔ ہمارے بھی ارمان ہیں، ہم فٹ بال ہی کھیل رہی ہیں، کوئی چوری تو نہیں کر رہیں۔'/pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepایسوسی ایشن نے فٹبال اور پریکٹس کا سامان مہیا کیا ہے لیکن ان لڑکیوں کو بہتر تربیت کے لیے پیشہ وارانہ کوچ کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔/ppنادیہ کہتی ہیں کہ ان مشکلات کی وجہ سے مقابلے کی اہل ٹیم بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔/ppخیال رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے کشمیری لڑکیاں کھیل، تجارت، فن اور دوسری سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔/ppمونیسا کہتی ہیں 'مجھے لگتا ہے ہم سب ذہنی بیمار ہیں۔ مجھے والدین کہتے ہیں کہ میں ایک فضول مشق کر رہی ہوں۔ ہر ایک کو یہی فکر رہتی ہے کہ کل کیا ہوگا کیونکہ آئے روز ہڑتال یا کرفیو ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی اپنے بچوں کو کھلاڑی یا ایکٹر بنانے کا شوق کیسے پالے گا؟'/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style