’مجھے باندھ کر زبردستی میرا بچہ ضائع کیا گیا‘

’مجھے باندھ کر زبردستی میرا بچہ ضائع کیا گیا‘

May 24, 2018 - 18:17
Posted in:

اٹلی میں زیرِتعلیم پاکستانی طالبہ جس نے اپنے گھر والوں پر پاکستان لے جا کر دھوکے سے اسقاطِ حمل کروانے کا الزام عائد کیا تھا بازیابی کے بعد واپس اٹلی پہنچ گئی ہے۔ 19 سالہ فرح نامی طالبہ اٹلی کے شہر ویرونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چند ماہ قبل وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔فروری میں ان کے گھر والے انھیں مبینہ طور پر زبردستی واپس پاکستان لے گئے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف ان کا بچہ گرایا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے انھیں اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے ریسکیو کیا۔یہ بھی پڑھیےثنا چیمہ کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا: پوسٹ مارٹم رپورٹثنا چیمہ کی موت طبعی یا قتل، قبر کشائی کی جائے گیکچھ روز تک اطالوی سفیر کے گھر پر رہنے کے بعد فرح جمعرات کی صبح میلان کے میلپینسا ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ اب اطالوی پولیس ان کا بیان لے گی جس کے بعد قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔اطالوی میڈیا میں شائع ہونے والے فرح کے بیانات کے مطابق انھوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ انھوں نے فرح کو ’نشہ آور ادویات دے کر بستر سے باندھ کر اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔‘یاد رہے کہ فرح کی کہانی منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے قبل ہی ایک اطالوی خاتون کی پاکستان میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی جنھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔26 سالہ اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت 18 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ وہ بیمار تھیں۔ جس روز وہ ہلاک ہوئیں اس کے ایک دن بعد انھیں اٹلی واپس جانا تھا۔ تاہم ان کی پر اسرار حالات میں موت پر اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد مقامی پولیس نے جانچ پڑتال شروع کی تھی۔اطالوی وزیرِ خارجہ اینجلو الفانو نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ’فرح آخرکار اٹلی لوٹ آئی ہیں اور اب محفوظ جگہ پر ہیں۔‘ اینجلو الفانو نے پاکستانی حکام کے تعاون کی تعریف بھی کی۔ اطالوی میڈیا کے مطابق فرح کا خاندان 2008 میں ویرونا منتقل ہوا تھا۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کی ملاقات ان کے موجودہ منگیتر سے ہوئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔ فرح نے پہلی بار حکام سے ستمبر میں رابطہ کیا تھا اور انھیں خواتین کے مقامی شیلٹر نے تحفظ دیا ہوا تھا۔ ان کے والد کو برے سلوک کے حوالے سے مقامی حکام کے پاس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ تاہم بعد میں ان کی اپنے خاندان کے ساتھ صلح ہو گئی تھی اور وہ اس خیال سے ان کے ساتھ پاکستان گئی تھیں کہ ان کے بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔ جب ویرونا میں ان کی ساتھی طلبا نے اپنی ٹیچرز سے رابطہ کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سماجی امور کی ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے دستاویزات چوری کر لیے گئے تھے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔ خیال رہے کہ فرح اطالوی شہری نہیں ہیں اس لیے اٹلی کی وزارتِ خارجہ اور ویرونا پولیس نے پاکستانی حکام سے مدد مانگی جنھوں نے اسلام آباد میں فرح کا گھر تلاش کیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}