’قطری مریضوں کو بھی ہسپتالوں سے نکال دیا گیا‘

’قطری مریضوں کو بھی ہسپتالوں سے نکال دیا گیا‘

September 22, 2017 - 12:29
Posted in:

سیف الرحمٰن ان چند پاکستانیوں میں شامل ہیں جو تقریباٌ چار دہائیوں سے خلیجی ملک قطر میں مقیم ہیں۔قطر ان دنوں اپنے تین ہمسایہ ممالک اور مصر کی جانب سے قطع تعلقی کے اعلان کے بعد بحران کا شکار ہے۔گذشتہ 37 برس سے ریڈیو سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سیف الرحمٰن نہ صرف حالیہ بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ انھوں نے خطے میں اس قبل ہونے والے تمام بڑے بحران بھی قریب سے دیکھے ہیں۔٭ قطری بحران: ’سینکڑوں جوڑے علیحدہ رہنے پر مجبور‘٭ قطر بحران: ڈیڈ لائن کے بعد کیا ہوگا؟سنہ 1990 میں کویت پر عراق کے حملے سے چھڑنے والی پہلی خلیجی جنگ کا وقت انھیں اچھی طرح یاد ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حالیہ خلیجی بحران تو کچھ نہیں، ان دنوں تمام خطے میں اتنی پریشانی ہوئی تھی کہ 'قطر میں مقیم بہت سے تارکینِ وطن نے اپنے خاندان واپس گھر بھیج دیے تھے۔ ان دنوں ٹیلیفون مہنگا ہوا کرتا تھا پھر بھی لوگ روزانہ اپنی خیریت گھر بتایا کرتے تھے۔'سیف الرحمٰن سے ہماری ملاقات قطر میڈیا کارپوریشن کی عمارت میں واقع اردو ریڈیو کے دفتر میں ہوئی جہاں وہ ان دنوں دیگر پروگراموں کے علاوہ قطر کے بحران کے حوالے سے ایک خصوصی پروگرام 'حقیقت یہ ہے' کی میزبانی کرتے ہیں۔ریڈیو سیف الرحمٰن کا اوڑھنا بچھونا ہے جس کو انھوں نے 1979 میں حادثاتی طور پر اپنایا۔ وہ ایک سکالرشپ پر 1974 میں عربی کی تعلیم حاصل کرنے قطر آئے تھے، پانچ سال بعد قطر یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور اسی برس قطر ریڈیو اپنی اردو سروس کا آغاز کر رہا تھا۔ان کے چند دوست اس کے لیے آڈیشن دینے جا رہے تھے، وہ بھی ساتھ ہو لیے۔ ممتحن نے ان سے بھی چند سطریں پڑھوائیں، اس امتحان میں دوست تو نہیں سیف الرحمٰن منتخب ہو گئے۔ تب سے آج تک انھوں نے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

قطر پر ہمسایہ ممالک کے محاصرے سے خود ان ممالک کے ہزاروں افراد کی زندگیاں بھی متاثر ہوئیںاردو ریڈیو کو انھوں نے تن تنہا بھی چلایا ہے جو قطر میں اردو زبان سمجھنے والے تقریباً چار ملکوں کے شہریوں تک پہنچتا ہے۔ ان میں انڈیا، نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان کے افراد شامل ہیں جو مل کر قطر کی حالیہ کل آبادی کا نصف سے بھی زیادہ ہیں۔اردو سروس کا آغاز محض ایک گھنٹے کے پروگرام سے ہوا تھا۔ آج اُس کی 24 گھنٹے کی نشریات ہیں۔ حالیہ بحران کی بات کرتے ہوئے سیف الرحمٰن پہلی خلیجی جنگ کو یاد کرتے ہیں۔ ان دنوں انھیں حالاتِ حاضرہ کا ایک خصوصی پروگرام کرنے کو کہا گیا، جو چلتے چلتے چھ ماہ تک چلتا رہا۔سیف بتاتے ہیں کہ 'ان دنوں میں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک مسلسل کام کیا کرتا تھا۔‘ اس بار انھوں نے کوشش کی ہے کہ حالات اس نہج تک نہ پہنچیں، مگر اب ریڈیو ان کی عادت بن چکی ہے۔ گھر اب بھی محض سونے کے لیے یا دن میں چند گھنٹے آرام کے لیے ہی جانا ہوتا ہے۔٭ قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہاتحالیہ بحران کے بارے میں میں بہرحال ان کا کہنا کہ حالات زیادہ خرابی کی طرف گئے ہی نہیں۔ جمعہ پانچ جون کو جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے محاصرے کا اعلان کیا تو سیف الرحمٰن کو یہ خبر ان کی اہلیہ سے ملی۔

سیف الرحمٰن اپنے پروگرام میں یہ تمام موضوعات زیرِ بحث لاتے ہیں۔ وہ آج بھی اپنے کئی پروگرام بذاتِ خود ریکارڈ کرتے اور خود سے ان کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے ریڈیو کے دفتر کے درودیوار سے ان کو اس قدر انسیت ہو چکی ہے کہ چند گھنٹے جو وہ گھر میں گزارتے ہیں وہاں بھی اسی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ایک سال ایسا بھی آیا کہ انھیں بغیر بتائے یہ فیصلہ ہو گیا کہ اردو سروس بند کر دی جائے۔ عیدالاضحٰی سے دو روز قبل سیف الرحمٰن کو کہیں سے اس کی بھنک مل گئی۔'سچی بات ہے ان دنوں میں لائبریری میں جا کر وہ ریکارڈ اور پھرکیاں جو میں نے اپنے ہاتھوں سے الماریوں میں لگائیں تھیں ان پر ہاتھ پھیرتا تھا کہ اب ہمارا ساتھ چھوٹ رہا ہے۔ میرے آنسو بھر آتے تھے۔'بہرحال اردو سروس آج بھی جاری ہے اور دو برس قبل ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے والے سیف الرحمٰن آج بھی کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے وہ نہیں جانتے کب انھیں خداحافظ کہہ دیا جائے گا۔ وہ خود کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کر تو رہے ہیں مگر نہیں جانتے کہ اس کے بعد وہ کیا کریں گے۔'کبھی کبھی تو خیال آتا ہے کہ یہاں سے تو بس پھر قبرستان ہی جانا ہے۔'٭ قطر کو مشرق وسطیٰ کے بعض دیگر ملکوں کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے بعد ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ بی بی سی قطر بحران کے وہاں رہنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد پر اثرات کے بارے میں خصوصی رپورٹس کا سلسلہ شروع کر رہی ہے۔یہ رپورٹس آپ ہر جمعرات اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے علاوہ شام سات بجے آج نیوز کے علاوہ ریڈیو سیربین اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے علاوہ ہمارے یو ٹیوب چینل پر بھی دیکھ سکیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}