’طویل ترین نان سٹاپ پرواز‘ اڑان کے لیے تیار

’طویل ترین نان سٹاپ پرواز‘ اڑان کے لیے تیار

October 11, 2018 - 09:31
Posted in:

دنیا کی طویل ترین نان سٹاپ پرواز کی سہولت فراہم کی جنگ ایک قدم اور آگے بڑھ گئی ہے جب جمعرات کو سنگاپور سے نیویارک تک نئی پرواز کا آغاز ہو رہا ہے۔ سنگاپور ایئرلائنز پانچ سال بعد اپنا یہ روٹ دربارہ متعارف کروا رہی ہے۔ پانچ سال قبل یہ پرواز اس لیے بند کر دی تھی کہ اس پر بہت زیادہ خرچ آرہا تھا۔ سنگارپور سے نیویارک کا سفر 15000 کلومیٹر طویل ہے اور یہ فاصلہ تقریباً 19 گھنٹے میں طے کیا جائے گا۔ قنطاس ایئرویز نے رواں سال پرتھ سے لندن تک اپنی 17 گھنٹے پر مشتمل نان سٹاپ پرواز کا آغاز کیا تھا جبکہ قطر ایئرویز آکلینڈ سے دوحا ساڑھے 17 گھنٹے کی نان سٹاپ پرواز فراہم کر رہی ہے۔ کیا مسافر ٹکٹ خرید رہے ہیں؟ چانگی ایئرپورٹ سے نیوآرک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک کے سفر کا خاصا چرچا ہے اور شاید ہی کوئی خالی سیٹ دستیاب ہے۔ سنگاپور ایئرلائنز (ایس آئی اے) کا کہنا تھا کہ مسافروں کی جانب سے نان سٹاپ سروسز کی مانگ تھی، جس کی وجہ سے سٹاپ اوور کے مقابلے میں وقت کی بچت ہوتی ہے۔ یہ بھی پڑھیےنو دنوں کا سفر 17 گھنٹوں میں سمٹ گیا!کیا یہ دنیا کی طویل ترین نان سٹاپ پرواز ہو گی؟دہلی سے تل ابیب براستہ سعودی فضائی حدود خواتین عملے کے ساتھ دنیا کے گرد پروازامریکہ میں دورانِ پرواز پائلٹ کی موتہوائی کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ بزنس کلاس میں اس پرواز کی تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں تاہم ’بہت محدود تعداد میں‘ پریمیئم اکانومی سیٹیں بچی ہیں۔ ہوائی کمپنی کا اس روٹ پر اکانومی بکنگ کی پیشکش کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے دو وقت کا کھانا جب وہ چاہیں گے ملے گا اور مشروبات دستیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ آرام کے لیے انھیں بستر کی سہولت بھی فراہم ہو گی۔ پریمیئم اکانومی کے کرائے میں تین وقت کا کھانا مقررہ وقت پر مشروبات کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔

کئی ہوائی کمپنیاں اب لمبے سفر کے لیے نئے A350-900 جہاز استعمال کر رہی ہیں۔ ان کی چھتیں اونچی اور کھڑکیاں بڑی ہیں اور روشنیاں ایسے انداز میں ڈیزائن کی گئی ہیں کہ اس سے جیٹ لیگ میں کم ہوتا ہے، ایک مصروف بزنس کلاس مسافر کے لیے یہ سب اچھا ہے۔ لیکن سنگاپور ایئرلائنز نے ایئربس سے جو الٹرا لانگ رینچ ورژن خریدا ہے وہ آج کے دور میں طویل پرواز کرنے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے۔ یہ 20 گھنٹے نان سٹاپ پرواز کر سکتا ہے جس کے بارے میں مستقبل میں ماہرین ہوابازی آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ بزنس اور تفریح کے لیے انتہائی لمبے سفر کرنے کا مستقبل ہے۔ جیفری ٹامس کہتے ہیں کہ یہ بار ہا مرتبہ ثابت ہوچکا ہے کہ لوگ نان سٹاپ پرواز چاہتے ہیں، چنانچہ ’اس قسم کے ہوائی جہاز لاجواب توجہ حاصل کرنے کی راہ پر ہیں۔‘ قنطاس کی پرتھ سے لندن کی پرواز اکانومی میں 92 فیصد اور پریمیئم میں 94فیصد مسافروں بھری ہوتی ہیں، چنانچہ ہوائی کمپنی کی نظر میں یہ رقم بنانے والے روٹس ہیں۔ جیفری ٹامس کہتے ہیں کہ ’ہم واقعی سفر کے ایک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}