’طبقاتی تقسیم سمجھنےکیلئے بھارتی فلم ہچکی دیکھیں‘

’طبقاتی تقسیم سمجھنےکیلئے بھارتی فلم ہچکی دیکھیں‘

October 16, 2018 - 16:05
Posted in:

چیف جسٹس پاکستان نے اسکولوں کی فیسوں میں اضافےکیخلاف کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ سرکاری اور نجی اسکولوں میں بہت گیپ پیدا کر دیا گیا ہے، اسکولوں میں فیسوں کے لیے ضابطہ کار ہونا چاہیے،طبقاتی تقسیم سمجھنےکےلیےبھارتی فلم ہچکی دیکھیں، میں تو ٹوٹی کرسیوں والے اسکول میں پڑھا ہوں۔نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافےکیخلاف کیس کیسپریم کورٹ میں سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔چیف جسٹس نےائیویٹ اسکول مالکان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج شام یا کل صبح ہماری ایجوکیشن پالیسی آ جائے گی، آپ اپنی مرضی کی فیس چارج کر رہے ہیں، آپ کہتے ہیں آپ کا رائٹ ٹو ٹریڈ ہے،آپ تعلیم بیچ رہے ہیں۔آپ کہتے ہیں من مانی فیس لیں گے جسے منظور نہیں اپنے بچے کو لے جائے،عدالت کو اساتذہ کا بہت احترام ہے، اتنی فیس نہ لیں کہ بچے تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نجی اسکول من مرضی اور منشاء کے مطابق فیس لیتے ہیں جو 50 ہزار سے ایک لاکھ تکہوتی ہے،نجی اسکول چاہتےہیں تعلیم فروخت کرنےکرنےکےجتنےمرضی پیسےلیں،اسکولوں کاموقف ہےانہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔تعلیمی اصلاحات پالیسی میں فیسوں کا مسئلہ بھی حل کیا ہے،اساتذہ عدالت آئے تو جج کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وکیل پرائیویٹ اسکولز کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کے سامنے یہ معاملہ ہے کہ فیس کتنی بڑھائی جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ فیسوں کے بڑھانے کاضابطہ نہیں تو ہم خود فیسوں کا تعین کر دیتے ہیں ۔چیف جسٹس کے ریمارکس ہر کمرہ عدالت میں موجود والدین نے تالیاں بجا دیں،چیف جسٹس نے والدین کو تالیاں بجانے سے سختی سے منع کر دیا اور کہا کہ یہ عدالت کی تعظیم کے خلاف ہے۔والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ اسکول والے کہتے ہیں منافع کم بچتا ہے لیکن برانچیں بڑھ رہی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ ہے تو اسکولوں کا آڈٹ کرا لیتے ہیں کہ منافع میں ہیں یا خسارے میں، آپ تعلیم کے قومی جذبے سے ہٹ کر کمائی کے چکر میں پڑ گئے ہیں،آپ لوگوں نے سرکاری اور نجی اسکولوں میں بہت گیپ پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکول مالکان نے چار چار رجسٹر بنائے ہوئے ہیں، بڑے بڑے وکیلوں کے ساتھ پیش ہوجاتے ہیں ،آپ لوگوں کو ملک کا فائدہ دیکھنا چاہیے، ایک بندہ ایک ڈیڑھ لاکھ تنخواہ لیتا ہے۔جس کے3بچے ہیں،وہ کیسے 30 ،30 ہزار فیس دے گا، فیسوں کے لیے ضابطہ کار ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ اسکولوں کا آڈٹ کراتے ہیں اور مالکان کے ٹیکس ریٹرن بھی دیکھیں گے، میرے پاس روز رپورٹس آتی ہیں کہ بڑے اسکولوں میں کتنی منشیات استعمال ہو رہی ہے،بڑے بڑے ممی ڈیڈی اسکولوں میں بچوں کو منشیات دی جا رہی ہے،مہنگے اسکولوں میں یہ ہو رہا ہے، میں نام نہیں لینا چاہتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نپولین نے میلان فتح کیا توکہا تھاجسے معافی لینی ہو وہ کسی استاد کےگھر چلا جائے،اشفاق احمد جرمنی کی عدالت گئے تو عدالت انکےاحترام میں کھڑی ہو گئی،میں چاہتا تھا سب کی ایک کتاب، ایک بستہ اور ایک یونیفارم ہو۔عدالت کی اسکولوں کے سینئر وکلاکو والدین بن کر سوچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ساتھ بیٹھ کر معقول فیس کا تعین کریں،قانون سازی کیلیے بھی تجاویز دیں،اس کے بعد کمیٹی بنادیں گے، تمام فریقین کے وکلا کی کمیٹی مل کر اس مسئلے کا حل نکالے۔عدالت نےکیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}