’صرف ایک کوہلی کافی نہیں ہے‘

’صرف ایک کوہلی کافی نہیں ہے‘

August 04, 2018 - 22:57
Posted in:

وراٹ کوہلی کی عظمت میں دو رائے نہیں۔ وہ ماڈرن کرکٹ کے چنیدہ بیٹسمین ہیں۔ ابھی ان کا آدھا کرئیر باقی ہے کہ وہ بے شمار بیٹنگ ریکارڈز اپنے نام کر چکے ہیں۔ یہی نہیں وہ ہر نئے دن مزید بہتری کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔مگر ان تمام مسلمہ حقائق کے باوجود ایک کڑوا کسیلا نکتہ ہمیشہ کوہلی کے ناقدین کے یہاں زیربحث رہتا ہے کہ ان کی تمام تر مہارت اور عظمت دوستانہ کنڈیشنز کی مرہون منت ہے۔ گذشتہ دورۂ انڈیا پہ جیمز اینڈرسن نے بھی یہی پھبتی کسی تھی۔اس بار جب انڈیا انگلینڈ کے دورے پہ نکلا تو بہت سی آنکھیں منتظر تھیں کہ اب کوہلی اینڈرسن کی پھبتی کا کیا جواب لائیں گے۔ اس سے پہلے کوہلی بھی یہ کہہ چکے تھے کہ وہ انگلش کاونٹی سیزن ضرور کھیلیں گے تا کہ کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو پائیں مگر مصروف شیڈول کی وجہ سے وہ کاونٹی نہ کھیل پائے۔یہ بھی پڑھیےکوہلی کی سینچری کام نہ آئی، انڈیا کو انگلینڈ نے ہرا دیاایسے میں معاملہ مزید دلچسپ تھا کہ اب جب کہ کوئی خاص تیاری بھی نہ ہو پائی کوہلی اینڈرسن کو کیا جواب دیں گے۔ انگلش کنڈیشنز میں ڈیوک بال اور اینڈرسن ایسے سیمنگ بولرز کا سامنا ہی وہ عوامل ہیں کہ تمام تر عظمت اور رینکنگ کی بلندیوں کے باوجود کوہلی کی انگلینڈ میں بیٹنگ اوسط ناگفتہ بہ رہی ہے۔

بین سٹوکس نے نہ صرف کوہلی کے ریفلیکسز کو دھوکہ دیا بلکہ باقی ماندہ قلیل ہدف کے پیچھے پھرتی انڈین بیٹنگ کو بھی لمحوں میں ہی لپیٹ دیا۔ برمنگھم میں یکبارگی ایسا محسوس ہوا کہ انڈیا نہیں بلکہ کوہلی ہار گیا۔ کیونکہ پہلی اننگز سے ہی یہ کوہلی اور انگلینڈ کا مقابلہ تھا۔ باقی انڈین بیٹنگ اس مقابلے سے گریزاں سی ہی دکھائی دی۔یہ دورہ خاصا طویل ہے۔ انڈین بیٹنگ کے مزید امتحاں ابھی باقی ہیں۔ عموما ایسے طویل دوروں میں اعصاب ہی نہیں اور بھی بہت کچھ بکھر جاتا ہے۔ اگر انڈیا کو اس شکست و ریخت سے بچنا ہے تو یہ ذہن نشین کرنا ہو گا کہ اس انگلش اٹیک کا توڑ کرنے کو صرف ایک کوہلی کافی نہیں ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}