’شمالی کوریا سے بھاگنے والے فوجی کو گولی ماری گئی‘

’شمالی کوریا سے بھاگنے والے فوجی کو گولی ماری گئی‘

November 14, 2017 - 06:40
Posted in:

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ ایک شمالی کوریائی فوجی دونوں ممالک کے درمیان ڈی میلیلاٹرائزڈ زون سے بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچ گیا ہے تاہم سرحد عبور کرتے ہوئے اسے گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔بھاگنے والے فوجی کو شمالی کوریائی فوج نے ہی گولی ماری تاہم گولی کندھے پر لگنے سے بچ نکالا اور اسے جنوبی کوریا میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ شمالی کوریا سے تقریباً ہر سال ایک ہزار افراد بھاگ کر جنوبی کوریا جاتے ہیں تاہم ان میں سے شاید ہی کوئی ہو جو بارودی سرنگوں سے بھری اور فونوں جانب سے فوجیوں کی کڑی نظر والی ڈی میلیلاٹرائزڈ زون کے ذریعے بھاگنے کی کوشش کرے۔ گذشتہ تین سالوں میں یہ صرف چوتھا موقع ہے کہ کوئی شمالی کوریائی فوجی اس زون سے فرار ہوا ہو۔مزید پڑھیےشمالی کوریا کے پاس کیا کچھ ہےٹرمپ: امریکہ مزید ’جانبدارانہ تجارت‘ برداشت نہیں کرے گاشمالی کوریا میں امریکی شہری زیرِ حراستقانونی لحاظ سے شمالی اور جنوبی کوریا ابھی بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔ اگرچہ ان کے درمیان جنگی محاذ 1953 سے ایک جنگی کے اعلان کی وجہ سے منجمد ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ جنگی بندی کا معاہدہ نہیں طے پایا ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی پانمنجوم گاؤں کے قریب جوائنٹ سکیورٹی ایرا سے بھاگ کر آیا جو کہ اس زون کا واحد علاقہ ہے جہاں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فوجی شمالی کوریا کی ایک چوکی سے بھاگ کر ہمارے فریڈم ہاؤس (جنوبی کوریا کی ایک عمارت) کی جانب بھاگا اور اسے بازو اور کندھے پر فائرنگ کے زخم تھے۔‘دارالحکومت سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوئن کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریائی میڈیا کے مطابق سرد جنگ کے بعد سے یہ صرف تیسرا موقع ہے کہ کوئی شمالی کوریائی فوجی بھاگ کر فرار ہوا ہو۔ اس سے قبل ایک فوجی 2007 میں شمالی کوریا سے بغاوت کر کے بھاگا تھا جبکہ اس سے قبل ایک فوجی نے 1998 میں ایسا ہی کیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سال کی ابتدائی دو تہائیوں میں شمالی کوریا سے فرار ہونے والے افراد کی تعداد میں 2016 کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سیول میں حکام کے مطابق جنوری 2017 سے اگست 2017 تک شمالی کوریا سے 780 افراد ملک چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس تعداد میں کمی کی وجہ شمالی کوریائی حکومت کی جانب سے سخت تر نگرانی اور سرحدی کنٹرول ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}