’سیلف میڈ نہیں بلکہ گاڈ میڈ ہوں‘

’سیلف میڈ نہیں بلکہ گاڈ میڈ ہوں‘

October 14, 2017 - 11:07
Posted in:

خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں قطر ایک چھوٹا ملک ہے تاہم یہاں دنیا کے تیسرے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والی دولت کی بدولت گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے قطر نےتعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے طے کیا ہے۔جہاں چند برس قبل صرف ریت کا صحرا تھا، وہاں آج آسمان کو چھوتی عمارتیں اور کشادہ سڑکیں نظر آتیں ہیں۔ موجودہ قطر کو بنانے میں تارکینِ وطن کا بہت بڑا ہاتھ ہے جنھوں نے اس عمل میں خود اپنا طرزِ زندگی بھی بہتر بنایا۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں انتہائی عاجزانہ آغاز کرنے والوں کے پاس آج مال و دولت کی ریل پیل ہے۔قطر پاکستانیوں کو ورک ویزے کیوں نہیں دیتا؟خصوصاٌ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے کئی تارکینِ وطن کے لیے قطر خوابوں کی سر زمین ثابت ہوا ہے۔ انھی میں انڈیا کے شہر بھوپال سے تعلق رکھنے والے محمد صبیح بخاری بھی شامل ہیں۔ وہ تقریباً تین دہائیاں قبل قطر آئے اور واٹر پروفِنگ کرنے والی ایک معمولی کمپنی میں سیلز مین کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔آج اُسی کمپنی کا شمار قطر کی چند بڑی کپمنیوں میں شمار ہوتا ہے، جس سے مزید نئی کمپنیاں بن چکی ہیں۔ صبیح بخاری اس کمپنی کے مالک یا مینیجنگ پارٹنر ہیں۔ سنہ 2014 میں مشہور معاشی جریدے فوربز مڈل ایسٹ نے انھیں مشرقِ وسطیٰ کے 100 بااثر کاروباری افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔بی بی سی بات کرتے ہوئے صبیح بخاری نے بتایا کہ ان کی اس غیر معمولی ترقی کے پیچھے ان کی محنت، بہترین حکمتِ عملی بنانے کا فن اور پھر اچھی قسمت کا عمل دخل ہے۔

صبیح کہتے ہیں کہ 'وہ اپنے آپ کوسیلف میڈ انسان نہیں سمجھتے بلکہ گاڈ میڈ انسان یعنی نصیب کا بنایا انسان سمجھتے ہیں۔' ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کے لیے اُن کا ایک ہی گر ہے۔ وہ ہار ماننے یا چھوڑ دینے میں یقین نہیں رکھتے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}