’سکیورٹی سٹیٹ یا سپورٹنگ سٹیٹ‘

’سکیورٹی سٹیٹ یا سپورٹنگ سٹیٹ‘

September 18, 2017 - 12:16
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape has-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="کرکٹ" src="https://ichef-1.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/2BB9/production/_97839111_..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"کنال روڈ لاہور کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ہے۔ ورلڈ الیون کی آمد پہ اسے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ جا بجا روشنیوں کے مصنوعی جزیرے نظر آ رہے تھے، رنگ اور نور کی گویا ایک بارات امڈ آئی تھی۔ /ppلیکن یہ بات فہم سے بالاتر رہی کہ رات کے تین بجے بھی اس بارات اور دلہن کو اتنی حفاظت کی کیا ضرورت ہے کہ جا بجا پولیس ناکے لگے ہیں، کہیں خاردار تاریں ہیں تو کہیں سیفٹی بیرئیرز۔ /ppa href="/urdu/sport-41223522" class="story-body__link"’دورے کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے‘/a/ppa href="/urdu/sport-41288472" class="story-body__link"کرکٹ یقیناً ایک بہتر موضوع سخن ہے /a/ppa href="/urdu/sport-41248296" class="story-body__link"’پاکستان کا کرکٹ کلچر پھر سے سانس لے رہا ہے‘/a/ppپولیس کی گاڑیاں گشت پر ہیں، ایلیٹ فورس اور رینجرز تہہ در تہہ سکیورٹی کا کردار نبھا رہے ہیں۔ بھئی ہو کیا رہا ہے؟ اس تام جھام سے یہ تو ہرگز نہیں لگ رہا کہ کوئی میچ ہو رہا ہے۔/ppاچنبھے کی بات مگر یہ ہے کہ یہ ساری کوششیں ہو رہی ہیں صرف ایک سوال کا جواب دینے کو، اور سوال یہ کہ کیا پاکستان کرکٹ کے لئے ایک محفوظ ملک ہے؟ /ppیہ وہ سوال ہے جو دنیا بھر میں پھیلی کرکٹ برادری پاکستان سے پوچھتی ہے۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ صرف کرکٹ نہیں ہے، اس سال ہونے والا پی ایس ایل فائنل اور حالیہ ورلڈ الیون کے انتظامات پہ نظر ڈالئے تو سمجھ یہ نہیں آتا کہ ہم پاکستان کو صرف کرکٹ کے لئے ہی محفوظ کیوں بنانا چاہتے ہیں۔/pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepمسئلہ کرکٹ کی میزبانی کرنا نہیں ہے۔ مسئلہ اِس طرح سے میزبانی کرنا ہے۔ /ppاور المیہ یہ ہے کہ یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں آج سے دس بیس سال پہلے صرف ایک گنجان علاقے کے رش بھرے پارک میں نہیں بلکہ گلی محلے کی کرکٹ میں بھی انٹرنیشنل پلیئرز رونق لگا دیا کرتے تھے۔/ppاور آج ہم سکیورٹی کے پانچ حصاروں میں سے گزر کر تین گھنٹے کا میچ دیکھ پاتے ہیں اور دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے۔/ppپاکستان کو صرف کرکٹ یا ہاکی ہی نہیں، ہر طرح کی معاشرتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ ملک ہونا چاہیے اور یہ اس روز ممکن ہو گا جس دن انڈیا اور پاکستان لاہور یا کراچی میں کھیل رہے ہوں گے اور شہر میں کہیں خارداد تاریں نظر نہیں آئیں گی۔ /ppاس دن بارڈرز پر خاموشی ہو گی اور میدانوں میں شور ہو گا۔ اس دن ہم کہہ سکیں گے کہ پاکستان سکیورٹی سٹیٹ نہیں، سپورٹنگ سٹیٹ بن چکا ہے۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style