’سندھ اور اسلام آباد کی پولیس راؤ انوار کو گرفتار نہ کرے‘

’سندھ اور اسلام آباد کی پولیس راؤ انوار کو گرفتار نہ کرے‘

February 13, 2018 - 13:22
Posted in:

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ کی ہلاکت کے مقدمے کے مرکزی ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دینے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے منگل کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سندھ پولیس اور وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ راؤ انوار کو گرفتار نہ کیا جائے۔ یہ بھی پڑھیے’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘نقیب اللہ کی ’پولیس مقابلے میں ہلاکت‘ کا ازخود نوٹسنقیب اللہ کیس: راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیانامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ کوئی ملزم کو نقصان نہ پہنچائے کیونکہ اس سے ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔عدالت نے ملزم راؤ انوار سے کہا ہے کہ وہ 16 فروری یعنی جمعے تک عدالت میں پیش ہوں۔نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کے دوران عدالت میں راؤ انوار کا خط پڑھ کر سنایا گیا جو اُنھوں نے پاکستان کے چیف جسٹس کے نام لکھا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مزید وقت دینے کے بعد بھی نتیجہ تبدیل ہونے کی توقع نہیں ہے۔اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ ملزم راؤ انوار واٹس ایپ کا استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان کو لوکیشن کا سراغ نہیں مل رہا۔اُنھوں نے کہا کہ انٹیلیجنس بیورو کے پاس بھی واٹس ایپ کی کال ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔واضح رہے کہ نقیب اللہ قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس نے سندھ پولیس کو راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے دس روز کی مہلت دی تھی اور عدالت نے اپنے حکم میں فوجی اورسویلین خفیہ اداروں کو حکم دیا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مقتول نقیب اللہ کے والد کا خط بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ملزم راؤ انوار کی عدم گرفتاری پر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدالت فوج کے خفیہ اداروں کو طلب کر کے اُن سے راؤ انوار کی عدم گرفتار نہ پر پوچھ گچھ کرے۔اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے راؤ انوار کو گرفتار نہیں کرسکے اس لیے ملزم کی گرفتاری کے لیے میڈیا پر اشتہار دیا جائے اور لوگوں کی مدد حاصل کی جائے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}