’روہنگیا خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے‘

’روہنگیا خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے‘

November 15, 2017 - 05:06
Posted in:

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگست سے لے کر اب تک مینمار چھوڑنے والے پانچ لاکھ کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کو بنگلہ دیش میں شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایک خاتون نے بی بی سی نیوز ڈے کی نومیہ اقبال کو بتایا کہ کیسے انھیں جسم فروشی کے لیے تیار اور مجبور کیا گیا۔ اپنے چہرے پر ایک گلابی سکارف لپیٹے 21 سالہ حلیمہ نے مجھ سے اکیلے میں بات کرنے کی رضامندی ظاہر کی۔ ’جب ہم بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہمیں ایک کیمپ میں لے جایا گیا جہاں ایک مقامی بنگلہ دیشی شخص نے ہمیں کھانا کھلایا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی وفات پا گئی ہیں اور اس کے دو بچے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘حلیمہ نے کہا کہ اس نے اس شخص کا اعتبار کر لیا اور اس کے ساتھ کوکس بازار میں اس کے گھر چلی گئیں۔روہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'روہنگیا کے انجام سے کشمیری خوفزدہ کیوں؟’جب میں گھر پہنچی تو مجھے سات آٹھ اپنی جیسی نوجوان لڑکیاں نظر آئیں۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ اس گھر میں اس شخص نے مجھے کئی مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا۔‘

’انڈیا میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمان‘مگر حلیمہ نے خود کو کوکس بازار میں ہی رہتے ہوئے پایا۔ وہ بنگلہ دیش میں کسی کو نہیں جانتی تھی۔ پیسے کے بغیر ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا اور انھیں جسم فروشی ہی کرنا پڑی۔ وہ ایک اور عورت کے پاس گئیں جو کہ ایسا ہی کام کرتی تھی۔ اب ان کا کہنا ہے کہ خوراک اور کبھی کبھی مدد مل جاتی ہے۔نوجوان حلیمہ کو پناہ کے لیے نقل مکانی کرتے وقت ایسی زندگی کی توقع نہیں تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ پانچ وقت کی نماز اور گھر والوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے والی زندگی کو لوٹنا چاہتی ہیں۔ ’مجھے میانمار میں اپنے گھر کی زندگی واپس چاہیے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}