’روسی جاسوس کی بیٹی کو زہر نہیں دینا چاہیے تھا‘

’روسی جاسوس کی بیٹی کو زہر نہیں دینا چاہیے تھا‘

March 10, 2018 - 17:57
Posted in:

اپنے والد کے ہمراہ زہر دیے جانے والی ایک سابق روسی جاسوس کی بیٹی کی سہیلی کا کہنا ہے کہ اس کی سہیلی نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ اسے نشانہ بنایا جاتا۔ برطانیہ کے شہر سیلزبری میں پولیس یولیا اور سرگئی سکرپال کے اتوار کو بے ہوش حالت میں پائے جانے کے بعد انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تفتیش کر رہی ہے۔ مزید پڑھیےبرطانیہ کے ’روسی جاسوس‘ نامعلوم مواد سے زخمییولیا کی بچپن کی دوست ارینا پیتروا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی یادداشت کے مطابق سکرپال ایک بہترین فیملی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ لوگ ان کے بارے میں سرِعام بات کرنے سے کترائیں گے۔ ارینا کا کہنا تھا کہ ’اب میں خوفزدہ ہونے لگی ہوں، ان کے رشتے داروں سمیت کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘33 سالہ یولیا اور ان کے 66 سالہ والد سرگئی سکرپال ایک ہفتے تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ اس سے قبل انھیں ایک نروو ایجنٹ کے ذریعے انفیکٹ کیا گیا تھا۔ برطانوی وزیرِ داخلہ ایمبر رڈ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس کی سربراہی کر رہی ہیں۔سکیورٹی منسٹر بن والس کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے جس کے خوفناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے اپنے ردِعمل میں حکومت برطانوی ریاست کے مکمل وسائل بروئے کار لانے کو تیار ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی نے ہماری سرزمین پر آکر انتہائی جارحیت کے ساتھ بظاہر ایک سنگین جرم سرزد کیا ہے اور ایک نروو ایجنٹ استعمال کیا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین میں ممنوع ہے اور بہت سے لوگوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سکرپال برطانوی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرتے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی یہی پالیسی ہے کہ ایسی معلومات کو راز میں رکھا جائے۔ ارینا پیتروا یولیا سکرپال کو سکول کے زمانے سے جانتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یولیا کے بہت سے رشتے دار بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور ان میں سے اب تھوڑے ہی بچے ہیں۔یاد رہے کہ یولیا سکرپال کی والدہ، چچا، اور بڑا بھائی گذشتہ چند سالوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانیہ میں زندگی یولیا سکرپال ماسکو سے اپنے والد سے ملنے کے لیے آئی تھیں۔ ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یولیا نے پیپسی اور نائکی سمیت متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں کام کیا ہوا ہے۔ وہ 2010 میں اس وقت برطانیہ منتقل ہوئی تھیں جب ان کے والد کو جاسوسوں کے تبادلے کے بعد رہائی دی گئی تھی۔ مگر پانچ سال بعد وہ واپس ماسکو چلی گئیں۔ارینا پیتروا کا کہنا ہے کہ یولیا سکرپال کو برطانیہ میں اپنا وقت پسند آیا تھا، انھوں نے ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی پاس کر لیا تھا اور ان کا شہریت کے لیے درخواست دینے کا منصوبہ تھا تاہم بعد میں انھوں نے اپنا پلان تبدیل کر لیا۔ ارینا کا کہنا ہے کہ یولیا نے انھیں بتایا تھا کہ انھیں برطانیہ میں سب کچھ پسند تھا اور ان کی فیملی کے پاس بہت اچھا گھر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ماسکو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے کے لیے گئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یولیا اور ان کے والد کا رشتہ بہت بہتر تھا، اور وہ سکول میں پڑھائی میں بھی بہت اچھی تھیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}