’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

January 12, 2018 - 12:45
Posted in:

انڈیا کا خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل سی 40 کے ذریعے خلا سے زمین کی تصاویر لینے والے سیٹلائٹ سمیت خلا میں 31 نئے سٹیلائٹ بھیج رہا ہے۔ جس میں انڈیا سمیت چھ مختلف ممالک کے سیٹلائٹ شامل ہیں۔گذشتہ سال اگست میں پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل سی 39 کی ناکامی کے بعد یہ بڑی کامیابی ہے۔اس بارے میں مزید پڑھیےانڈیا کا مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں چھوڑنے کا کامیاب تجربہانڈیا کا خلائی مشن میں نیا ریکارڈانڈیا کی خلائی شعبے میں دلچسپی کی وجوہاتاس راکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ سیٹلائٹ سے نکلنے کے بعد دو گھنٹے تک خلا میں رہتا ہے اور اس دوران راکٹ کی اونچائی کم کر کے مزید سیٹلائٹ خلا میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت منفرد نوعیت کا مشن ہے۔انڈیا خلا میں ایک نیا سیٹلائٹ کارٹوسیٹ- ٹو بھی خلا میں بھیج رہا ہے۔ یہ ایک سیمنٹیک امیجنگ سیٹلائٹ ہے جو زمین کی تصاویر کھینچے گا۔ انڈیا کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کا ساتواں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے، جس کی معیاد پانچ سال ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے انڈیا کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر موجود دشمنوں پر نظر رکھی جائے گی۔ اس سیٹلائٹ کو ’خلا میں آنکھ‘ کا نام دیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ زمین کی نگرانی کرنے والی سیٹلائٹس سمیت تمام خلائی ٹیکنالوجیز کو عسکری اور شہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’دوہرے نوعیت کے سیٹلائٹس سے عسکری عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔‘اس نوعیت کا ایک اور سیٹلائٹ پہلے ہی خلا میں موجود ہے اور اس سے حاصل ہونے والی تصاویر سے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل سٹرائیکس کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔ اس کا کیمرا کافی بڑا ہے۔پولر سیٹلائٹ لانچنگ وہیکل انڈیا کا مائیکرو اور نینو سیٹلائٹ ہے۔ اس میں دوسرے ممالک کے سیٹلائٹس بھی شامل ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، فن لینڈ اور جنوبی کوریا کے سیٹلائٹس شامل ہیں۔دوسرے ممالک کے سیٹلائٹس سے (اسرو) کو منافع بھی ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}