’خالد مقبول کو حساب دینا ہو گا‘

’خالد مقبول کو حساب دینا ہو گا‘

October 12, 2018 - 16:05
Posted in:

ایم کیوایم رہنما فاروق ستار نے حادثاتی طور پر پارٹی کی قیادت لندن سے میرے پاس آئی،11 فروری کومجھ سےپارٹی سربراہی خالدمقبول صدیقی نےلےلی، انہیں اور دیگر لوگوں کو حساب دینا ہوگا۔ سے9 نومبر کی پریس کانفرنس کا بدلہ لیا گیا،میرا دل جلا ہوا ہے،کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم رہنما فاروق ستار نے پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ م کارکنوں اورذمےداروں کو5 فروری کی پوزیشن پربحال کیا جائے۔فاروق ستار کا کہنا تھاکہ پتا ہےکہ میری پریس کانفرنس کا بہادر آباد سے جواب آئے گا لیکن کوشش کروں گا اس کا جواب پہلے ہی دے دوں، حادثاتی طور پر 23 اگست کو لندن سے میں نے قیادت لے لی، میں نے پارٹی کو بچایا، ہر کارکن ووٹر اس تاریخی حقیقت کو جانتا اور مانتا ہے، اس بنا پر دل سے میری عزت کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا خالد مقبول صدیقی نے کارکنان سے مینڈیٹ نہیں لیا اور حادثاتی طورپر مجھ سے سربراہی لے لی لہٰذا تنظیم کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرایا جائے۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پارٹی تباہی کے راستے پر چل پڑی ہے، 17 نشستوں سے 4 نشستوں پر پہنچ گئی،ایم کیو ایم پاکستان اس وقت نازک صورتحال سے دوچار ہے ۔ آئندہ آزمائش بلدیاتی انتخابات ہیں، اگر تنظیم کو تقسیم اور تباہی سے بچانا ہے، اس کا کھویا وقار واپس لانا ہے تو پانچ فروری کی لائن اگر تقسیم کی تھی تو وہی دوبارہ متحد ہونے کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کا کھویا ہوا قار واپس لانے کے لئے ضروری ہےکہ رابطہ کمیٹی فی الفور تمام کارکنان اور ذمہ داران کو عزت کے ساتھ 5 فروری کی پوزیشن پر بحال کرے۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ایم کیوایم کو نظریاتی پارٹی بنانےکےلیے ایک ایک مہاجر کےپاس جاؤنگا اور اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھوں گا،اب ساتھیوں سے بات انٹرا پارٹی الیکشن پر ہوں گے، اس سے کم کسی بات پرنہیںہوں گے۔فاروق ستار نے کہا کہ میرا گناہ یہ تھا کہ پی ایس پی کے پروجیکٹ کو میں نے ناکام بنایا،میرابڑا گناہ یہ بھی تھا کہ میں نے پارٹی میں احتساب کی بات کی۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}