’حکومت بھنگ کے کاروبار کی اجازت دے‘

’حکومت بھنگ کے کاروبار کی اجازت دے‘

November 07, 2018 - 19:05
Posted in:

سندھ کے شہر میرپورخاص میں ایک وکیل نے ایک انوکھا احتجاج کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں ’بھنگ‘ کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔میرپور خاص پریس کلب کے باہر بدھ کی صبح ایڈووکیٹ امان اللہ سومرو ڈنڈے اور کونڈے کے ساتھ پہنچے، جہاں انہوں نے بھنگ گھوٹ کر تیار کی اور سبز رنا کے محلول والا ایک گلاس پی گئے۔امان اللہ سومرو شہر میں سٹامپ وینڈر کا کام کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بھنگ منشیات نہیں بلکہ جڑی بوٹی ہے، اس میں کوئی بھی کیمیکل نہیں اور نہ ہی نقصان دہ ہے۔ ’پہلے یہ چالیس روپے کلو ملتی تھی لیکن اب یہ 12 رپے کلو بھی نہیں ملتی۔‘امان اللہ سومرو نے بھنگ کی دکانیں کھولنے کی درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے کہا کہ یہ ان کا دائرہ اختیار نہیں اور انہیں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے، جس کے بعد انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں یہ درخواست دی ہے جہاں یہ گزشتہ آٹھ ماہ سے زیر سماعت ہے۔یہ بھی پڑھیے’کینابس‘: پاکستان میں ’بچوں‘ کا نشہ؟کینیڈا کے شہری سال میں اربوں ڈالر کی بھنگ پی گئےمنشیات، بندوق، تنخواہ اور امریکی ووٹرزبھنگ کی تیاریبھنگ سندھ کے پہاڑی علاقوں کے علاوہ کچے میں کاشت کی جاتی ہے۔ استعمال سے قبل اس کے پتوں کو سکھایا جاتا ہے۔ استعمال کے لیے اس کو کونڈے میں ڈال کر گھوٹا جاتا ہے۔ ساتھ میں بادام، مصری، خشش اور الائچی وغیرہ کے علاوہ دودھ یا پانی ملا کر ململ کے کپڑے میں چھانا جاتا ہے۔ بھنگ گروپ کی شکل میں بھی گھوٹی جاتی ہے اس کے علاوہ کچھ جگہ اسے گھوٹنے کی ذمہ داری مختص ہوتی ہے۔ ان دنوں بھنگ کے استعمال میں جدت بھی آئی ہے۔ اب یہ پکوڑوں اور دال کے پاپڑوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے، یہ پاپڑ کراچی میں بھی دستیاب ہوتے ہیں۔بھنگ کی روایتبھنگ کا ذکر ہندو دھرم کی روایات میں ملتا ہے اور خاص طور پر ہولی کے موقعے پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بالی ووڈ کی فلموں میں بھی اس کو پروموٹ کیا جاتا رہا ہے۔ راجش کھنہ کا گیت ’جئے جئے شیو شنکر۔ کانٹا لگے نہ کنکر کہ پیالا تیرے نام کا پیا۔‘ یا پھر چاہے امیتابھ بچن کا گیت رنگ ’برسے بھیگے چنر والی۔‘ یا دیپیکا کا گیت ’اتنا مزا کیوں آرہا ہے تو نے ہوا میں بھنگ ملایا۔‘صحافی اور تجزیہ نگار ناز سھتو کا کہنا ہے کہ سندھ میں بھی بھنگ کے استعمال کی روایت قدیم ہے اور خاص طور یہ گرم علاقوں میں استعمال کی جاتی رہی ہے، کسی زمانے میں دادو کا علاقہ بوبک اور خیرپور کا علاقہ کرونڈی اس کی کاشت کے مراکز ہوا کرتے تھے۔

بھنگ کی قانونی حیثیتسندھ میں 1976 تک بھنگ کی فروخت اور استعمال کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ اس کی فروخت بھی شراب کی دکانوں پر شراب اور افیون کے ساتھ کی جاتی تھی، بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے شراب کے ساتھ بھنگ پر بھی پابندی عائد کر دی۔اس سے قبل ایک بین الاقوامی کنونشن کے تحت 1961 میں پہلی بار کینیبس یا بھنگ کو منشیات کے زمرے میں شامل کردیا گیا۔ تاہم پڑوسی ملک بھارت کی بعض ریاستوں میں آج بھی بھنگ کا کاروبار قانونی ہے جبکہ امریکہ، جرمنی، اٹلی اور نیدرلینڈ نے اس کو بطور دوا استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔بھنگ کی سماج میں قبولیتسندھ کے دیہی معاشرے میں بھنگ کے استعمال کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ مقامی نوجوان شاہنواز چاچڑ کے مطابق گاؤں میں بھنگ پینے کی جگہ مخصوص ہوتی ہے، جبکہ دیہی سندھ کی نصف آبادی اس کا استعمال کرتی ہے۔ صحافی اور تجزیہ نگار ناز سھتو کے مطابق جو غریب طبقہ شراب نوشی نہیں کرسکتا تھا اس کی اولین ترجیح بھنگ ہوا کرتی تھی، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بھنگ استعمال کرنے والا مشتعل نہیں ہوتا۔بھنگ کا صحت پر اثرحکمت کی دواؤں میں بھنگ کا استعمال عام ہے جبکہ جدید میڈیسن میں اس کو مضر صحت سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ھیرا لال لوہانہ کے مطابق بھنگ دماغ پر اثر کرتی ہے اور انسان کی رویے میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ واضح رہے کہ ماحول میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ دیہی علاقوں میں جہاں بجلی کی سہولت تک نہیں وہاں گرمی کا مقابلہ یہ مشروب ہی کرتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}