’حزب اختلاف کان کھول کر سن لے، این آر او نہیں ملے گا‘

’حزب اختلاف کان کھول کر سن لے، این آر او نہیں ملے گا‘

October 24, 2018 - 21:29
Posted in:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو سخت الفاظ میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انھیں جو احتجاج کرنا ہے کر لیں لیکن کسی کو این آر آو نہیں ملے گا۔سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سالانہ کانفرنس میں شرکت کے بعد بدھ کو عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعطم عمران خان نے پہلے تو سعودی عرب سے ملنے والی امدادی پیکیج کے بارے میں بتایا لیکن اس کے ساتھ انھوں نے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ رواں ہفتے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف زرداری نے کہا تھا کہ بہت قلیل عرصے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی نااہلی دکھا دی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو جائیں اور حکومت کی ناکامی کے خلاف قرارداد پیش کریں اور اس کے بعد انھوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا آغاز بھی کیا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گذشتہ دس برس کے دوران ملک پر 30ہزار ارب قرضوں کا بوجھ بڑھانی والی جماعتیں اب اکٹھی ہو رہی ہیں کہ موجودہ حکومت فیل ہو گئی ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیے'او ڈیئر! پی ٹی آئی کی جانب سے ایک اور جھوٹ‘پی ٹی آئی سے کراچی والے خوش، پشاور والے ناخوشعمران خان کے استاد ’نیب اور حکومت کا ناپاک اتحاد ہے‘انھوں نے گذشتہ دس برس کے دوران سرکاری اداروں میں ہونے والے مالی خساروں کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے گذشتہ دس برسوں میں ملک کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے آج ہم یہاں کھڑے ہیں اور اب یہ جمہوریت بچانے کے نام پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان سب کو پتہ ہے کہ ہم 30 ہزار ارب کا آڈٹ کر رہے ہیں اور ان سب کو معلوم ہے کہ ان کی کرپشن اس میں سامنے آئے گی اور اس کرپشن کو بچانے کے لیے جلسے جلوس کرنے کے لیے تیار ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ’ان کی صرف اور صرف ایک کوشش ہے کہ کسی طرح سے ان کو این آر آو دے دیں لیکن میں ان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ سب کان کھول کر سن لیں، آپ نے سڑکوں پر آنا ہے تو ہم آپ کو کنٹینر دینے کو تیار ہیں۔ آپ نے اسمبلیوں میں کرنا ہے جو بھی کھل کر کریں اور جو کرنا ہے کر لیں لیکن کان کھول کر سن لیں کہ این آر او نہیں ملے گا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’کسی کرپٹ آدمی کو نہیں چھوڑوں گا، میں عوام سے وعدہ کر کے آیا تھا کہ اس ملک میں کرپٹ لوگوں کو جیلوں میں ڈالوں گا کیونکہ جب تک کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔‘سعودی عرب سے امدادی پیکج

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے آغاز پر سعودی عرب سے ملنے پیکیج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کا بوجھ آتے ہی ہمیں ملا اور اگر فوری طور پر قرضہ نہ لیتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جس امدادی پیکیج کی کوششیں کر رہے تھے وہ ہمیں سعودی عرب سے مل گیا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے اوپر سے بوجھ اتر گیا ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیےسعودیہ پاکستان کو تین ارب ڈالر،تیل دینے پر رضامندسعودی عرب نے کب کب پاکستان کی مدد کی؟ سعودی عرب کو ’سی پیک‘ میں شمولیت کی دعوت وزیراعظم کے بقول ہمارے پر بوجھ یہ تھا کہ یا ہم سیدھا عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس چلے جاتے اور اس سے زیادہ قرضہ لیتے تو اس کی شرائط کی وجہ سے عوام کو نقصان پہنچنا تھا۔ تو اس وجہ سے دوست ملک سے قرضہ لینے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ آئی ایم ایف سے کم سے کم قرضہ لیں اور اس میں کامیاب ہو گئے اور سعودی عرب سے زبردست پیکیج مل گیا۔وزیراعظم عمران خان نے اس کے ساتھ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیں گے بھی تو اس سے اتنا زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔ انھوں نے اس کے ساتھ کہا کہ دو اور دوست ممالک سے بات چیت ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ ان سے بھی اسی طرح کا پیکج ملے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}