’جیل جانا پڑے یا پھانسی دے دی جائے،اب قدم نہیں رکیں گے‘

’جیل جانا پڑے یا پھانسی دے دی جائے،اب قدم نہیں رکیں گے‘

July 11, 2018 - 21:02
Posted in:

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انھیں سزا دینے کا فیصلہ عدالت میں نہیں کہیں اور ہوا، تاہم اب جیل جانا پڑے یا پھانسی دے دی جائے ان کے قدم نہیں رکیں گے۔نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 برس قید کی سزا سنائی ہے اور وہ جمعے کی شام لندن سے واپس پاکستان آ رہے ہیں۔بدھ کی شام لندن میں مریم نواز کے ہمراہ ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'میری سیاسی پناہ لینے کی خبریں دینے والے سن لیں، میں واپس پاکستان آ رہا ہوں۔'یہ بھی پڑھیےجب نواز شریف لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے تو کیا ہو گا؟نواز شریف کے پاس اب کیا راستہ ہے؟نواز شریف اور عدالتیں نواز شریف کے عروج و زوال کی تصویری کہانینواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی کا اعلاننواز شریف نے کہا کہ 'احتساب عدالت کا فیصلہ آپ نے سن لیا ہے، میں نے یہ مقدمہ اس لیے نہیں لڑا کہ انصاف کی توقع تھی، میں نے یہ مقدمہ اس لیے لڑا کہ عوام کو میرے جرائم کی حقیقت کا پتہ چل جائے۔‘انھوں نے کہا کہ وہ جیل کی کوٹھری سامنے دیکھ کر بھی ’ووٹ کو عزت دو‘ کا وعدہ پورا کرنے جا رہے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'جیل کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ پورا ملک جیل بن چکا ہے۔'انھوں نے کہا کہ ’ہم پہلے ریاست کے اندر ریاست کی بات کرتے تھے مگر اب معاملہ ریاست کے اوپر ریاست تک آن پہنچا ہے اور ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آ گئے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ 'میں اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کا قائل ہوں، پاکستان کے ہر ادارے کا احترام کرتا ہوں لیکن جی حضوری کر کے اقتدار میں رہنا ایک لمحے کے لیے قبول نہیں ہے۔'نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے کو اہمیت دی جائے انھیں ’بھیڑ بکریاں‘ نہ سمجھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا‘خیال رہے کہ مریم نواز پہلے ہی بتا چکی ہیں کہ نواز شریف اور وہ جمعرات کو لندن سے ابو ظہبی پہنچیں گے اور پھر وہاں سے جمعے کی شام پاکستان پہنچیں گے۔نواز شریف نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں یہ سب بدلنا ہو گا اور بہت جلدی بدلنا ہو گا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’25 جولائی کو انتخابات نہیں بلکہ اب ریفرنڈم ہو گا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}